0

ایڈیشنل آئی جی ویلفئیر طارق مسعود یٰسین کی عوامی خدمات

ایڈیشنل آئی جی ویلفئیر طارق مسعود یٰسین پولیس فورس میں اپنی خدمات کے حوالے سے اعلیٰ مقام رکھتے ہیں ۔ وہ نہ صرف پولیس بلکہ سماجی حلقوں میں بھی ہر دلعزیز شخصیت ہیں ۔ وہ کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتے اور عوام پر اپنی محبتوں کے پھول نچھاور کرتے رہتے ہیں زیر نظر مضمون ان کے جزبوں کا عکاس ہے۔ قیصر انجم (چیف ایڈیر آئی پی پی نیوز)۔

پولیس میں میری انسانی خدمت
والی زندگی کا آغاز تب ہوا ، جب میری ملاقات زاہد اور اس کی فیملی سے ہوئی۔

میری پنجاب میں پہلی پوسٹنگ 1995 میں بطور اے ایس پی سٹی جھنگ ہوئی۔ بہت مُشکل وقت اور اور بہت مُشکل حالات تھے ۔
جھنگ شدید مذہبی تفریق کا شکار تھا۔
لاقانونیت عروج پر تھی ۔ ناصر دُرانی میرے ایس ایس پی اور شاہد خان ڈی سی تھے۔۔۔ میری 13 مارچ، 1995 کو پوسٹنگ کے صرف 15/20 روز کے اندر حالات مکمل قابو میں آ گئے ۔۔۔اس میں میرے ڈرائیور طارق کا بُنیادی کردار تھا۔۔ سادہ، سچا اور وفادار ساتھی تھا۔
پھر میری پروموشن ہوئی اور 2001 میں دوبارہ پُرانے نظام کے مطابق میری ضلع جھنگ کے آخری ایس ایس پی کے طور پر پوسٹنگ ہو گئی-
اور پھر میں وہیں جھنگ کا پہلا DPO بنا۔۔۔۔۔۔

میں نے پہلے ہی روز اپنے پُرانے ڈرائیور طارق کو بُلانے کے لئے کہا ۔ لیکن جواب میں یہ جان کر دل پر بجلی سی گری کہ وہ تو کُچھ عرصہ قبل ہی دورانِ ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے پر انتقال کر چُکا تھا۔۔۔۔ میں نے اس کی بیوی اور بچوں کو گھر بُلایا۔۔۔ دو بیٹیاں ، دو میں سے ایک بیٹا زاہد اپنی بیمار والدہ کے ساتھ ملنے آئے ۔۔۔۔۔۔زاہد نے ابھی مڈل پاس کیا تھا۔۔۔۔۔۔ غُربت ، افلاس میں گھرے اس خاندان کو میں نے look after کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ چھوٹی بیٹی اور زاہد کو اپنے بچوں کے طور پر اپنا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے اسے معمولی عہدے پر بھرتی کروایا اور اپنے ساتھ رکھ کر تعلیم و تربیت کا آغاز کیا۔۔۔۔۔ زاہد اپنے ٹیلنٹ اور محنت کی وجہ سے ایف اے کر گیا اور پھر خود بخود اپنی محنت اور کوشش سے جونیئر کلرک بن گیا۔۔۔۔۔ مُجھ سے میرے اپنے بیٹے ابراہیم کی طرح محبت اور عقییدت رکھتا ہے۔۔۔۔ اپنی بوڑھی ماں کی خوب خدمت کر رہا ہے۔
بہت محبت سے متواتر مُجھ سے ملنے آتا ہے اور میرے بچوں کی طرح میرے ساتھ وقت گُزارتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے میرے مرحوم ماں باپ سے بھی بہت محبت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیک روح ہے۔
جند روز قبل ایک رات کیلئے آیا اور خوب میرے اپنے بچوں کی طرح گپ شپ کی۔۔۔۔۔۔اگلی صبح میرے ساتھ ناشتہ کیا۔۔۔۔۔اور بولا کی سر میں بہت عرصہ سے آپ کے ساتھ ایک تصویر بنانے کی خواہش دل میں لئے پھر رہا ہوں ۔۔۔۔ سو ہم یہ تصویر بنوائی۔
خاندان کے حالات بدل چُکے ہیں دونوں بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چُکی ہیں۔۔۔۔۔اللّٰہ ان کا حامی و نا صر ہو۔۔۔۔۔۔۔میری دُعا ہے کہ زاہد اپنا ہر لمحہ انسانی خدمت میں خرچ کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مُجھے دُنیا میں اپنی ماں کے علاوہ، سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔ اللّٰہ اسے ہمیشہ خوش اور آباد رکھے۔۔۔۔۔۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں