0

سعودی حکومت نے حالیہ دورے میں آرمی چیف سے اہم درخواست کر دی

سعودی عرب نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تربیت کے لیے پاکستانی فوج بڑھانے کی درخواست کی۔

اسلام آباد ( آئی پی پی ) سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران خان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔حکومت کو احتساب کے ساتھ ساتھ اپنی اکانومی اور گورننس پر فوکس کرنا ہو گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی چین گئے ہیں۔کیونکہ سی پیک بہت سے ممالک کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
عارف حمید بھٹی نے کہا کہ پاکستان بیرونی دباؤ سے تو نمٹ لے گا مگراندرونی صورتحال جس میں یہ روزاانہ کی بنیادوں پر سیاستدانوں کو نوٹسز دئیے جاتے ہیںمیہ پریشان کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے جب کہ دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں سعودی حکومت نے تربیت کے لیے پاکستانی فوج بڑھانے کی درخواست دی۔
آرمی چیف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے حوالے سے سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ سعودی عرب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسا تاثر ملا ہے کہ معاملات ابھی زیر التوا ہیں، رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ابھی تک معاملات زیر التوا ہیں اور ممکن ہے کہ ایک،دو ماہ کے دوران آرمی چیف ایک بار پھر سعودی عرب کا دورہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان وفد کو شکایات کی گئیں کہ ترکی اور طیب اردگان جس کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کوئی زیادہ اچھے نہیں،پاکستان اس کے ساتھ تعلقار کو ایک نئی شکل دے رہا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت خراب ہونا شروع ہوا جب اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران عمران خان نے طیب اردگان کو خراج تحسین پیش کیا۔پاکستان کو ترکی اور ایران کے ساتھ نئے سفارتی بلاک کا حصہ بننے کی بجائے سعودی عرب کے بلاک میں رہنا چاہئیے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی خبریں آئی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب سے متعلق اپنی ٹیم کے ساتھ 3 گھنٹے طویل میٹنگ کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی شہزادے کی قیادت میں اس میٹنگ میں ان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان بھی شریک تھے جو کہ سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع بھی ہیں۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام تر ضروری اختیارات سعودی شہزدے کے بھائی خالد بن سلمان کو دے کر آرمی چیف سے ملاقات کو بھیجا گیا جس کے بعد انہوں نے بعد میں آرمی چیف سے ملاقات بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دورہ اور ملاقاتوں سے متعلق کوئی مشترکہ اعلامیہ بھی سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں