0

محکمہ ایکسائز کے سابق ملازم کے گھر سے 33 کروڑ روپے برآمد

لاہور: محکمہ ایکسائز کے سابق ملازم کے گھر سے 33 کروڑ روپے کی بھاری رقم برآمد کر لی گئی۔

نیب لاہور کے مطابق محکمہ ایکسائز کے سابق ملازم خواجہ وسیم کے خلاف تحقیقات جاری تھیں اور ملزم کے گھر چھاپہ مار کر کروڑوں روپے برآمد کر لیے۔

نیب حکام کے مطابق ملزم خواجہ وسیم محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور میں گریڈ 16 کا ملازم تھا، ملزم کے گھر سے 33 کروڑ کیش اور پرائز بانڈز کی صورت میں برآمدکیا گیا۔

نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ادارے کے انٹیلی جنس ونگ کی بڑی کامیابی سے ملزم کے خلاف جاری تحقیقات نے نیا موڑ لے لیا ہے۔

نیب لاہور کا کہنا ہے کہ سابق انکم ٹیکس انسپکٹر خواجہ وسیم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ملزم کروڑوں روپے کے ذرائع تاحال ثابت نہیں کر سکا ہے۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی اہلیہ کے نام پر بھی 19 کروڑ سے زائد کیش و پرائز بانڈ ہونے کےشواہد بھی ملے ہیں۔

حکام کے مطابق ملزم خواجہ وسیم نے 2018 میں ایمنسٹی اسکیم میں کروڑوں روپے وائٹ کیے، خواجہ وسیم اسکیم سے فائدہ حاصل کرنے کا اہل ہی نہیں تھا۔

نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملزم کے بینک اکاؤنٹس میں 2013 تا 2017 ، 22 کروڑ سے زائد سرمایہ بیرون ملک بھیجنے کا انکشاف بھی ہوا ہے، ملزم کی جانب سے بیرون ملک سے منتقل ہونے والے سرمائے کے ذرائع ثابت نہ کیے جا سکے۔

نیب حکام کی جانب سے ملزم خواجہ وسیم کو گرفتاری کے بعد احتساب عدالت کے روبرو پیش بھی پیش کیا گیا۔

محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کی کارروائی

دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی پی او آفس اوکاڑہ کے اکاؤنٹنٹ افتخار احمد عاصم کو کرپشن کےالزام میں گرفتار کر لیا۔

ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کا کہنا ہے کہ ملزم افتخار احمد عاصم نے ایک کروڑ 81 لاکھ خورد بردکیے، ملزم نے یہ رقم 2012 تا 2014 تنخواہوں اور الاؤنسز کے ہیڈ سے نکالی، ملزم نے کرپشن کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ 

گوہرنفیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے جعلی کمپنی بنوا کر چالاکی سے رقم اس میں ٹرانسفر کی، ملزم نے جعلی کنٹریکٹرز جمیل خانزادہ سے ایڈوانس چیک وصول کیے اور سرکاری خزانے سے رقم نجی بینک کی اوکاڑہ برانچ میں ٹرانسفر کروائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں