0

سی سی پی او لاہور کا پولیس افسران سے نازیبا رویہ، پولیس فورس میں دھینگا مشتی عروج پر پہنچ گئی، ایسا کام ہو گیا کہ یقین نہ آئے

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے افسران کے ساتھ نازیبا روئیے کی وجہ سے پولیس فورس میں دھینگا مشتی کی ایسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ سن کر یقین نہ آئے۔ ڈیلی ڈان کے مطابق نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے روئیے جارحانہ اور تضحیک آمیز روئیے کی وجہ سے پولیس کے کئی افسران پریشان ہیں۔ پولیس افسران میں یہ بے چینی اس وقت شروع ہوئی جب سی سی پی او نے ادارہ جاتی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کچھ افسران کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کروا دیا۔ اس کے علاوہ افسران کو شکوہ ہے کہ سی سی پی او لاہور رسمی اور غیررسمی میٹنگز میں افسران کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اوران کے متعلق انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

سی سی پی او کے اس روئیے سے تنگ آ کر دو افسران نے آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی کو شکایت کر دی ہے۔ ان افسران میں ایک ٹریننگ اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور دوسرا ہیڈ کانسٹیبل ہے۔ سی سی پی او کے خلاف پہلے سے جلتی اس آگ پر ایس ایس پی لیاقت ملک کے بدھ کے روز اچانک تبادلے نے تیل کا کام کیا۔ ان کے کے تبادلے پر سینئر افسران کو شدید دھچکا لگاجب انہیں پتا چلا کہ سی سی پی او نے آئی جی پنجاب کو بھیجے گئے خط میں بھی لیاقت ملک کے متعلق انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس خط کے ذریعے سی سی پی او نے آئی جی پنجاب کو لیاقت ملک کا تبادلہ کرنے کی سفارش کی تھی۔انہوں نے اس خط کی ایک نقل وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی ارسال کی تھی تاکہ وہ لیاقت ملک کے خلاف مزید کسی ایکشن یا سزا پر غور کر سکیں۔

ڈان نیوز کے مطابق 10ستمبر کے روز بھی 50سے زائد پولیس افسران نے سی سی پی او کے خلاف ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ سی سی پی او نے سبکدوش ہونے والے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیئے تھے جس پر ان افسران نے غم و غصے کا اظہار کیا اور سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف تادیبی کارروائی اور فوری تبادلے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ افسران سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں جمع ہوئے اور شعیب دستگیر کے خلاف سی سی پی او کے ریمارکس پر احتجاج کیا۔ سی پی او میں ہونے والے اس غیرمعمولی اجتماع میں ایس ایس پیز اور ایس پیز کے علاوہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (بی ایس 21)کے عہدے کے اعلیٰ پولیس افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی ٓئی جی)بھی شامل تھے۔ اس معاملے پر سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا ہے کہ ”میری تمام تر کوششیں پولیس فورس پر شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ہیں۔ فورس میں تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کی جا رہی ہے اور یہی مزاحمت میرا سب سے بڑا ٹارگٹ ہے۔ پولیس میں اصلاحات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم ’سٹیسٹس کو‘کی حامی طاقتوں کو شکست نہیں دے لیتے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں