آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر مل سکتی ہے: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر سننے کو مل سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر پیش رفت متوقع ہے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔

انہوں نے کہا کہ ممکنہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خدشات کو بھی دور کرے گا جو آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق ہیں۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو محدود کردیا تھا۔

مارکو روبیو کے مطابق مجوزہ معاہدہ ایسے عمل کا آغاز ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کو ایرانی جوہری ہتھیاروں کے خدشات سے نجات مل سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے اور اس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات پر کام جاری ہے۔

دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد چند ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لائی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو 30 روز کے اندر جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح تک بحال کردیا جائے گا تاہم آبنائے ہرمز مکمل طور پر اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

تسنیم کے مطابق ممکنہ معاہدے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی 30 روز کے اندر مکمل طور پر ختم کی جائے گی جب کہ ایران کے منجمد فنڈز کا کچھ حصہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں جاری کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی پر بھی مشتمل ہوگا جب کہ آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات 30 دن میں نافذ ہوں گے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات معاہدے کے بعد مزید 60 روز تک جاری رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق جوہری معاملے پر فریقین کو ابتدائی 30 روز میں اتفاق کرنا ہوگا تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی ایک یا دو شقوں پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔ تسنیم نے ایک باخبر ایرانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اگر امریکا رکاوٹیں پیدا کرتا رہا تو مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں ہوگا۔

ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز کا کم از کم کچھ حصہ پہلے مرحلے میں جاری کیا جائے۔

ادھر واشنگٹن سے جاری رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ تاثر دیا جائے کہ مجوزہ معاہدے سے امریکا نے اپنے مقاصد حاصل کرلیے ہیں کیوں کہ امریکی عوام میں جنگ غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مجوزہ معاہدہ فی الحال جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور مذاکرات کے تسلسل تک محدود دکھائی دیتا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر حتمی اتفاق ابھی باقی ہے۔

Related posts