بادی النظر میں وزیر اعلیٰ نے گورنر کے آڈر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کیا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ
لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰٰ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ آپ کے موکل نے مان لیا کہ انہوں نے آرٹیکل 137 کے سیکشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا، اگر وہ یہ لکھتے کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تو صورتحال مختلف ہوتی، بادی النظر…

لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے گورنر بلیغ الرحمٰن کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف چوہدری پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔

کیس کی سماعت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کہ گزشتہ رات گئے ہونے والے پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں اسپیکر سبطین خان نے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی پر اعتماد کے لیے رائے شماری کے بعد اعلان کیا کہ انہوں نے 186 ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ گورنر پنجاب نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے کے منصوبے کو روکنے کے لیے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔

22 دسمبر کے اپنے حکم نامے میں گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے مقررہ دن اور وقت پر اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، اس لیے وہ عہدے پر برقرار نہیں رہے، تاہم بلیغ الرحمٰن نے انہیں بطور وزیر اعلیٰ کام جاری رکھنے کا کہا تھا جب تک کہ کوئی ان کا جانشین منتخب نہیں کیا جاتا۔

گورنر کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پرویز الہٰی نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

گزشتہ ماہ ہونے والی سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کو اگلی سماعت تک صوبائی اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی پر گورنر کا حکم معطل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے منصب پر بحال کردیا تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے، دیگر ججز میں جسٹس چوہدری محمد اقبال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس مزمل اختر شبیر شامل ہیں۔

آج سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ووٹوں کے ریکارڈ کو عدالت دلائل کا حصہ بنا دیا جائے، گورنر کو اس پر اعتراض نہ ہوگا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے ایسے میں اب آپ کیا کہتے ہیں، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ اب بھی اگر گورنر کوئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں تو صورت حال کیا ہوگی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی فلور کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہی، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ فلور ٹیسٹ مکمل ہوگیا ہے، یعنی معاملہ ختم ہوگیا ہے، پرویز الہیٰ کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ گورنر کا جو پہلا حکم تھا کہ اعتماد کا ووٹ لے وہ ٹیسٹ کرلیا ہے ،گورنر کا دوسرا نوٹیفکیشن وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا تھا جسے کالعدم ہونا چائیے ۔

جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ کے موکل نے مان لیا ہے کہ انہوں نے آرٹیکل 137 کے سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے، اگر وہ یہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تو صورتحال مختلف ہوتی، بادی النظر میں وزیر اعلیٰ نے گورنر کے آڈر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

Related Posts

پشاور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

پشاور پولیس لائنز میں دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ جائے وقوعہ سے خودکش حملے کے شواہد ملے…

ایم کیو ایم رہنما بابر غوری وطن واپس پہنچ گئے

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر بابر غوری وطن واپس پہنچ گئے۔ رپورٹس کے مطابق بابر غوری غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز ای…

پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے شروع ہوں گے

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مذاکرات کا دور آج سے شروع ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں نویں اقتصادی جائزے پر بات…

دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کی ضرورت ہے: وزیر دفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب جیسے آپریشن کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پشاور پولیس…

دہشت گرد قوم کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے: آرمی چیف

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پشاور واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ آرمی چیف نے…

پی سی بی نے کامران اکمل کو جونیئرسلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ریجنل اور ڈسٹرکٹ ٹیموں کے انتخاب کے لیے 8 رکنی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کردیا اور سابق ٹیسٹ کرکٹر کامران…