ہائی بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مددگار غذائیں

فشار خون یا بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے
بلڈ پریشر کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ جسم کو مختلف امراض کا شکار کرکے موت کی جانب لے جاتا ہے خاص طور پر اس کے شکار افراد میں شدید غصہ دماغ کو جانے والی شریان کے پھٹنے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جس سے فالج جیسا مرض لاحق ہوسکتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ…

ایسی ہی چند غذاﺅں کے بارے میں جاننا آپ کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں
پوٹاشیم گردوں کو پیشاب کے راستے زیادہ نمکیات کے اخراج میں مدد دیتا ہے، جس سے بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے، پالک، ساگ یا ایسی ہی دیگر سبزیاں پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہیں، اس لیے یہ بلڈپریشر میں کمی لانے میں مدد دیتی ہیں۔

چقندر
چقندر میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو خون کی شریانوں کو کشادہ کرنے اور بلڈپریشر میں کمی میں مدد دیتا ہے۔ طبی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ چقندر کے جوس میں موجود نائٹریٹ 24 گھنٹوں میں بلڈپریشر میں کمی لاتا ہے۔ اگر جوس پسند نہیں تو سلاد کی شکل میں بھی اسے کھایا جاسکتا ہے۔

اسکم ملک اور دہی
اسکم ملک کیلشیئم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جس میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے، یہ دونوں عناصر بلڈپریشر میں کمی لانے کے لیے اہم ہوتے ہیں، اگر دودھ پسند نہیں تو دہی کا انتخاب بھی کیا جاسکتا ہے، امریکن ہارٹ ایسوسی یاشن کے مطابق جو خواتین دہی کھانے کی عادی ہوتی ہیں ان میں ہائی بلڈپریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

جو کا دلیہ
جو کا دلیہ فائبر سے بھرپور، کم چکنائی اور نمکیات والی غذا ہے جو بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے، ناشتے میں اسے کھانا دن بھر جسم کو توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔

کیلے
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں اس حوالے سے مددگار ہوتی ہیں اور کیلا بھی ایسا ہی ایک پھل ہے، جو ہر موسم میں دستیاب ہوتا ہے اور لگ بھگ ہر ایک کو پسند ہی ہوتا ہے۔

مچھلی
مچھلی پروٹٰن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے، چربی کی والی مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو بلڈپریشر، ورم اور ٹرائی گلیسڈر کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔

بیج
بغیر نمک الے بیج پوٹاشیم، میگنیشم اور دیگر منرلز سے بھرپور ہوتے ہیں اور بلڈپریشر میں کمی لاتے ہیں، سورج مکھی، میٹھے کدو کے بیج اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

لہسن
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لہسن جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی سطح میں اضافہ کرکے فشار خون میں کمی لاسکتا ہے، نائٹرک آکسائیڈ سے خون کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں اور بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔

 

Related Posts

وزنی کمبلوں کا گہری نیند سے کیا تعلق ہے؟

وزنی کمبلوں کی فروخت میں اضافے کا سبب محض ایک رجحان نہیں بلکہ اس کے نیند پر مثبت اثر قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا…

گلے کی خراش سے نجات حاصل کرنے کے آسان نسخے

گلے کی خراش آپ کے گلے میں درد یا تکلیف ہے جو بہت سی مختلف بیماریوں یا حالات سے منسلک ہو سکتی ہے۔ کچھ گھریلو علاج جو گلے کی…

موسم سرما میں نزلہ زکام سے کیسے بچا جائے؟

نزلہ زکام دنیا بھر کے لوگوں کو درپیش سب سے عام مسئلہ ہے۔ اگرچہ سال کے دوران کسی کو بھی عام سردی لگ سکتی ہے لیکن سردیوں…

کیا رات گئے تک جاگنا صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے؟

اگر تو آپ رات گئے تک جاگنے اور صبح اٹھنے میں مشکل محسوس کرنے والے افراد میں سے ہیں، تو آپ کے لیے بری خبر ہے۔ درحقیقت…

کیا پھلوں کا باقاعدہ استعمال اداسی کو دورکرتا ہے؟

غذا اور صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے اور اب ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ فاسٹ فوڈ، پروسیس شدہ غذا اور مرغن کھانوں…

سبز پتوں والی سبزیوں کے حیرت انگیز فوائد

ہر انسان صحت مند زندگی جینا چاہتا ہے جبکہ اس کے لیے کوشش بہت کم لوگ کرتے ہیں، صحت مند زندگی کا راز ہری سبزیوں میں چھپا…