بھارتی ہندوتوا کا اصل چہرہ !

بھارت میں کئی بنیاد پرست ہندو جماعتیں بروئے کار ہیں۔ مثال کے طور پر بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دَل، وِشوا ہندو پریشد وغیرہ۔ یہ تنظیمیں بھارتی ہندو آریہ سماج سے پھوٹی ہیں۔ یہ ’’سنگھ پریوار‘‘ کی شاخیں اور اولادیں ہیں۔ یہ سب مل کر ہی’’ ہندوتوا آئیڈئیلوجی‘‘کہلاتی ہیں ۔ آر ایس ایس ( راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ) کو اِن سب کی ماں یا چھتری کہا جا سکتا ہے۔

آج بھارت کی مقتدر پارٹی، بی جے پی، دراصل آر ایس ایس ہی کی اولاد ہے ۔ آر ایس ایس ہی کی مرکزی اور محوری طاقت سے بھارتی بنیاد پرست ہندو جماعتوں نے بھارت میں واقع صدیوں پرانی ’’بابری مسجد‘‘ شہید کی تھی ۔ آر ایس ایس اتنی طاقتور ہے کہ اگر وہ چاہے تو آج ہی بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، کو پلک جھپکتے میں اقتدار سے محروم اورفارغ کر سکتی ہے ۔

آر ایس ایس کے مرکزی قائد ، موہن بھاگوت ، ہیں ۔ اُن کی عمر75برس ہے ۔ وہ پچھلے 16برس سے ’’آر ایس ایس‘‘ کے مرکزی اور مطلق قائد چلے آ رہے ہیں۔ بھارت بھر میں اُن کی مذہبی سیاست کا ڈنکا بجتا ہے ۔ بھارت کے بڑے بڑے سیاستدان،ہندو پرچارک اور ارب پتی صنعت کار اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر اُن کے پاؤں چھونا اور اُن کی خوشنودی حاصل کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں ۔

چند دن پہلے موہن بھاگوت نے بھارت میں آر ایس ایس کے زیر اہتمام (کہ آر ایس ایس کو معرضِ عمل میں آئے 100سال ہو گئے ہیں) ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا ۔ اِس اجتماع میں بھارت و بیرونِ بھارت کی جملہ بنیاد پرست ہندو جماعتوں نے شرکت کی ۔ موہن بھاگوت کے خطاب کے الفاظ سے ہم ہندوتوا کا اصل چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں اور بھارتی ہندو جماعتوں کی اسلام و مسلم دشمنی بھی ۔ اُنھوں نے اپنے خطاب میں خصوصی طور پر یہ کہنا اور بتانا ضروری خیال کیا کہ بھارت ایک ہندو ملک ہے، سیکولر نہیں۔ گویا اُنھوں نے بھارتی سیکولرزم کی بھی نفی کردی اور بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی بھی ۔

 موہن بھاگوت نے بھارتی شہر ، ناگپور، میں اپنے تاریخی خطاب میں کہا :’’ بھارت ایک ہندو ملک ہے اور رہے گا۔ اور اس حقیقت کے لیے آئینی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں۔جب تک ملک میں ہندو ثقافت کی قدر کی جاتی رہے گی، بھارت ہندو ملک رہے گا۔ بھارت کو’’ہندو قوم‘‘کہنے کے لیے کسی آئینی منظوری کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہی سچائی ہے۔ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔

ہمیں نہیں معلوم یہ کب سے ہو رہا ہے۔ تو کیا اس کے لیے بھی ہمیں آئینی منظوری کی ضرورت ہے؟ ہندوستان بس ایک ہندو قوم ہے۔ جو کوئی بھی بھارت کو اپنی مادرِ وطن سمجھتا ہے، وہ بھارتی ہندوانہ ثقافت کی قدر کرتا ہے۔ جب تک ہندوستان کی سرزمین پر ایک بھی ایسا شخص زندہ ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی عظمت پر یقین اور اسے عزیز رکھتا ہے، بھارت ایک ہندو قوم کا ملک ہے۔ یہی سنگھ پریوار کا نظریہ ہے۔اگر کبھی پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر کے کوئی الگ فیصلہ کرے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں آئینی الفاظ کی پرواہ نہیں، کیونکہ ہم ہندو ہیں اور ہمارا ملک ایک ہندو ملک ہے۔ یہی سچ ہے۔

پیدائش کی بنیاد پر قائم ذات پات کا نظا م ہندوتوا کی پہچان نہیں ہے۔‘‘خطاب کے بعد موہن بھاگوت نے بھارتی صحافیوں سے بات چیت بھی کی۔ایک سیکولر مزاج بھارتی صحافی نے جب اُن سے یہ سوال پوچھا:’’ آپ کہتے ہیں کہ پیدائش کی بنیاد پر قائم ذات پات کا نظام ہندوتوا کی پہچان نہیں تو کیا آپ اپنے گھر کی رسوئی( باورچی خانہ) میں کسی نچلی ذات کے ہندو کا داخلہ پسند کریں گے؟ تواِس کا جواب دیتے ہُوئے اُنھوں نے صاف الفاظ میں کہا:’’ بالکل نہیں۔‘‘

موہن بھاگوت نے اپنے خطاب کی تردید کرتے ہُوئے کوئی مزائقہ محسوس نہیں کیا۔ ایک لحاظ سے اچھا ہی کیا۔ کوئی منافقت نہیں کی۔ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں مزید کہا:’’آر ایس ایس کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت اپنی ثقافتی جڑوں اور اکثریتی آبادی کے ہندو مت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک’’ہندو قوم‘‘ہے۔آئین کے دیباچے میں لفظ’’سیکولر‘‘اصل میںشامل نہیں تھا بلکہ اسے ’’سوشلسٹ‘‘کے ساتھ 1976ء میں اُس وقت شامل کیا گیا جب اُس وقت کی وزیر اعظم، اندرا گاندھی، نے ایمرجنسی نافذ کی تھی، اور یہ ترمیم آئینی (42ویں ترمیمی) ایکٹ کے تحت کی گئی۔مَیں تمام بھارتی ہندو پسند شہریوں سے کہوں گا کہ وہ آر ایس ایس کے دفاتر کا دَورہ کریں تاکہ تنظیم کے کام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں، اور اس تاثر کو ختم کیا جا سکے جسے بعضوں نے آر ایس ایس کومسلمان مخالف قرار دیا۔ لوگوں نے اب یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ آر ایس ایس ہندوؤں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے اور اس کے ارکان پختہ قوم پرست ہیں، لیکن یہ تنظیم مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ جن لوگوں نے ہمیں دیکھا ہے، دیکھنے کے بعد اُن لوگوں نے کہا ہے کہ ہم پختہ قوم پرست ہیں، ہم ہندوؤں کو منظم کرتے ہیں اور ان کے تحفظ کی وکالت کرتے ہیں۔ یہی اعتراف ہمیں بھارت اور دُنیا بھر کے ہندوؤں میں مقبول بنا رہا ہے۔‘‘

جب موہن بھاگوت اپنے اہم ترین خطاب میں بھارتی سیکولرازم کی تردید کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھارت کو ایک بنیاد پرست ہندو ریاست تسلیم کروانے پر بضد ہیں ۔ اُن کے مذکورہ خطاب کے بین السطور سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے بھارتی مسلمانوں سمیت اقوامِ عالم کے سامنے خود کو ’’ماڈریٹ‘‘ پیش کیا ہے ، مگر اُن کے عملی اقدامات اِس کی نفی کرتے ہیں۔ جب موہن بھاگوت لاکھوں بنیاد پرست اور متعصب بھارتی ہندوؤں کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے، اُنہی ایام میں بھارتی صوبہ بہار کے وزیر اعلیٰ، نتیش کمار، مسلم دشمنی کا یوں ثبوت دے رہے تھے کہ پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب میں ایک بھارتی مسلمان ڈاکٹر کا زبردستی حجاب نوچ رہے تھے ۔ اور یہ نتیش کمار ’’صاحب‘‘ آر ایس ایس اور بی جے پی کے مشترکہ و متفقہ وزیر اعلیٰ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت نے اپنے وزیر اعلیٰ کی اِس حرکت کی مذمت کی نہ اپنے تاریخی خطاب میں اِس کا ذکر کیا۔

موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ ’’ بھارت اور آر ایس ایس ذات پات پر یقین نہیں رکھتے ہیں‘‘ اور یہ کہ ’’آر ایس ایس مسلمان مخالف نہیں ہے۔‘‘عملی طور پر دونوں دعوے غلط ہیں ۔ اگر بھارتی پنجاب کے ممتاز ادیب( بلبیر مادھوپوری) کی معرکہ آرا سوانح حیات ’’چھانگیا رُکھ‘‘ پڑھیں تو انسان اشک بار ہو جاتا ہے ۔

یہ سوانح عمری بھارت میں ذات پات کی وحشیانہ تقسیم بارے ذاتی تجربات و مشاہدات پر مبنی ہے ۔ اِس کے علاوہ بھارت ہی کے ممتاز ادیب (اوم پرکاش والمیکی) کی سوانح حیات ’’ جُوٹھن‘‘ بھی اِسی ذات پات کی مکروہ انسانی تقسیم اور بھارت میں نچلی ذات کے ہندوؤں (دلت) بارے ذاتی تجربات بارے شاہکار کتاب ہے ۔ یہ کتابیں پڑھ کر انسان پریشانی سے سوچتا ہے :کیا بھارت میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے انسانوں کی اس قدر توہین ہوتی ہے؟ جس شخص کو بھارت میں مروّج ذات پات پر یقین نہیں ہے، وہ صرف یہ دونوں کتابیں پڑھ لے۔چانن ہو جائے گا اور ہندو بنیاد پرست موہن بھاگوت کی منافقت کی قلعی بھی اُتر جائے گی ۔

Similar Posts