عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکی خام تیل اور عالمی بینچ مارک برینٹ دونوں میں کام تیل کی قیمت تقریباً 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور اس کا بڑا سبب تیل کی سپلائی کا متاثر ہونا ہے۔
دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے جسے فی الحال ایران نے بند کیا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر خلیج کے ممالک سے تیل کی ترسیل متاثر رہی تو عالمی منڈی میں روزانہ کروڑوں بیرل سپلائی کم ہو سکتی ہے۔