5

غریب عوام کو ریلیف ملے گا اور امیروں پر ٹیکس لگے گا: مفتاح اسماعیل

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امید ہے آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گا، آئی ایم ایف کو ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے اور 12 لاکھ آمدن پر انکم ٹیکس چھوٹ پر کوئی اعتراض نہیں۔

یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ امید ہے آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ میں بحال ہو جائے گا، آئی ایم ایف کو ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے پر کوئی اعتراض نہیں اور اسے 12 لاکھ آمدن پر اِنکم ٹیکس چھوٹ پر بھی اعتراض نہیں ہے، ہماری طرف سے دی گئی 12 لاکھ سالانہ آمدنی پر انکم ٹیکس کی چھوٹ برقرار رہے گی۔

قبل ازیں سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، سابق وزیر خزانہ اور رکن کمیٹی شوکت ترین اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ غریب عوام کو ریلیف ملے گا اور امیروں پر ٹیکس لگے گا، فارما سیوٹیکل کمپنیز کے ریفنڈ آئندہ چار روز سے ادا کرنے شروع کردیں گے، اگر چار دنوں میں ریفنڈ کی سلسلہ شروع نہ ہوسکا تو آئندہ دو ماہ میں پیسے کلئیر کر دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ فنانس کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ 30 کروڑ روپے پر ٹیکس نہ لگایا جائے اور 30 کروڑروپے سے زائد کی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے، بات تو ٹھیک ہے مگر اس وقت رقم کی زیادہ ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ٹیکس بڑھانے پر ناراض ہوجاتے ہیں اور وہ باربار ٹیکس کم کرنے پر زور دے رہے ہیں، وزیراعظم سے کہتا ہوں کہ اگر ٹیکس نہ بڑھاوٴں تو آمدنی کیسے بڑھے گی۔

مفتاح اسماعیل نے اجلاس کے دوران انکشاف کیا کہ گزشتہ مالی سال صرف 14 سے پندرہ کلوگرام سونا قانونی طریقے سے پاکستان آیا جب کہ ہر سال 80 ٹن سونا ملک میں اسمگلنگ سے آ رہا ہے، جیولرز ایسے بھی ہیں جن کی روزانہ کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی ہوتی ہے، جب دکاندار سے پوچھا تو کہا روزانہ چار ہزار کی سیلز ہوتی ہے۔

کمیٹی کے رکن شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے فارماسیوٹیکل کمپنیز کے لیے سیلز ٹیکس کو دستاویزی بنانے کے لیے کام کیا، ادویات سازی کے ساتھ وہی فیکٹری جوسز بنا رہی ہے، ادویات ساز میک اپ کا سامان بنارہے ہیں اور سیلز ٹیکس نہیں دیتے، اگر انہیں 17 کی بجائے کم سیلز ٹیکس لگائیں گے تو یہ ادا ہی نہیں کریں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ایف بی آر نے ری فنڈ کا نظام خودکار بنایا ہے، اگر فارما والوں کا ری فنڈ رک گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی ڈاکیو منٹیشن پوری نہیں، حکومت کو اس طرح کے مشکل فیصلوں سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔

اجلاس کے دوران ممبران کمیٹی اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ کمیٹی ممبران نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ غریبوں پر ٹیکس عائد کرنے سے اجتناب کریں۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ تین سو سے اوپر جس کا ایک بھی ہندسہ جاتا ہے تو اسے ساری مالیت پر ٹیکس دینا ہوگا۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہے لیکن پیسوں کی بہت ضرورت ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ آپ غریبوں کے بجائے کسی اور کی جیب کاٹیں جس پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وہ بھی کاٹیں گے آپ بے غم رہیں۔

مفتاح اسماعیل کے شوکت ترین کو جواب پر اجلاس میں قہقہے لگے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں