‘پمز اسپتال میں آگ اور انسانی جانوں کے بچاؤ کے انتظامات ناکافی تھی’: سی ڈی اے رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی پر کیپیٹل دیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں اسپتال میں آگ سے نمٹنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صبح چھ بج کر پچپن منٹ پر اطلاع ملتے ہی چھ منٹ میں پہلی گاڑی موقع پر پہنچ گئی تھی، تاہم آپریشن کے دوران شدید رکاوٹیں پیش آئیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپتال میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناپائیدار تھے اور معیار کے مقررہ تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔
دوسری جانب ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان دعوؤں کے برخلاف بیان دیا۔
ای ڈی پمز نے کہا کہ اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود تھا اور نرسری میں چوبیس آکسیجن سلنڈرز کی موجودگی کے باوجود ریسکیو ٹیم کو آپریشن میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
اس دلخراش واقعے کے بعد حکومت نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
اس المناک سانحے میں ایئر کنڈیشن کا کمپریسر پھٹنے سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق بچوں کی تعداد 15 بتائی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 10 خواتین، 7 بچوں اور 2 مردوں سمیت 19 افراد کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا۔
آتشزدگی کی وجوہات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق سی ڈی اے فائر بریگیڈ اور اسپتال انتظامیہ کے مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔
ای ڈی پمز رانا عمران سکندر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں دو ڈاکٹرز، چار نرسز اور دیگر عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا اور ایک خاتون ڈاکٹر نے اپنی جان پر کھیل کر ایک نومولود بچے کی جان بچائی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات کی وجہ سے نرسری میں داخلہ محدود رکھا جاتا تھا، تاہم اگر تحقیقات میں کوئی بھی شخص قصوروار پایا گیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے تمام جاں بحق بچوں کےجسدِ خاکی قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیے ہیں۔