سانحہ پمز کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست دائر
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 26 اگست کو پیش آنے والے اندوہناک واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی نے درخواست ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، جس میں وفاق، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری صحت، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پمز سانحے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج یا سیشن جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پمز میں 26 اگست کو ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جس کی مکمل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔ درخواست میں واقعے کی تحقیقات کے لیے فرانزک کرانے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پمز کے فائر الارم سسٹم کا مکمل آڈٹ کرایا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واقعے کے دوران حفاظتی نظام نے کس حد تک کام کیا اور کسی ممکنہ غفلت یا تکنیکی خرابی کی صورت میں اس کے ذمہ دار کون ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائناکولوجی وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں نرسری میں موجود دو جڑواں سمیت 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔
آتشزدگی سے جاں بحق چودہ نومولود کی میتیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں جب کہ لواحقین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
ریسکیو ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ جاں بحق بچوں کی تعداد 15 ہے، تاہم اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔