جنیوا میں امریکا-ایران تاریخی معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جینیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نے آج امن کا ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق 3 ماہ اور 16 دن کی بے پناہ آزمائشوں کے بعد ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت تمام فوجی محاذوں پر جنگ کے فوری خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب جنیوا میں منعقد ہوگی، جبکہ اس تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ پاکستانی قوم اور عالمی برادری کو اس پیش رفت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں موجود تمام ارکان اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی رہنمائی اس پورے عمل میں ان کے ساتھ رہی۔

وزیراعظم نے صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، علیم خان، خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح ہے۔ شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی سپریم لیڈر اور ایرانی صدر کو بھی مبارکباد پیش کی، جبکہ قطری امیر اور سعودی ولی عہد کو خراج تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم کے مطابق ترکیہ اور چین کے صدور سمیت دیگر برادر اور یورپی ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئیں سب مل کر اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی کامیابی عطا فرمائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لیے حکومت کی مخلصانہ کوششیں کامیاب ہوئیں اور قوم صدیوں سے ایسی کامیابی کی متلاشی تھی۔ ان کے مطابق جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لیے بغیر کہا کہ قیامِ امن کے لیے ان کا کردار انتہائی اہم اور فیصلہ کن رہا ہے، انہوں نے شب و روز اس عمل کے لیے وقف کیے۔ مذاکرات کے دوران کئی نشیب و فراز آئے اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوا کہ یہ عمل رک جائے گا، تاہم خلوص اور دانشمندی کے باعث امن کا خواب حقیقت میں بدلا۔

انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے محسن نقوی کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ ایرانی فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔

شہباز شریف نے ایرانی سفیر کو ایوان میں خوش آمدید کہا اور وزارتِ خارجہ کے افسران کی کاوشوں پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے سیسہ پلائی دیوار بن کر ساتھ دیا، جبکہ جنگ کے تباہ کن اثرات نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ وزیراعظم کے مطابق اس صورتحال نے پاکستانی معیشت پر بھی دباؤ ڈالا، تاہم قوم نے معاشی بحالی اور مہنگائی کی شدت سے بچاؤ کے لیے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔

آخر میں وزیراعظم نے وفاقی و صوبائی قیادت سمیت پوری قوم کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اجتماعی جدوجہد اور قومی یکجہتی کا نتیجہ ہے۔

Related posts