امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کی کوششوں میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی آئی ہے۔ امریکی حکومت کے اعلیٰ نمائندے اور ایران کے وزیر خارجہ دونوں ہی اہم مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد اسرائیل اور لبنانی حکام میں جنگ بندی معاہدے پر اتفاق ہوا اور اب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف مذاکرات شروع کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوئے ہیں۔

اس نئی پیشرفت سے پہلے، اسی ہفتے امریکا اور ایران نے چودہ نکات پر مشتمل ایک عارضی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد لڑائی کو روکنا اور ایران کے ایٹمی پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ساٹھ دنوں کا وقت فراہم کرنا ہے تاکہ ایک پائیدار اور مضبوط ڈیل بنائی جا سکے۔

لبنان میں اسرائیل اور ایران نواز مسلح گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے امریکی نائب صدر نے سوئٹزرلینڈ جانے کا اپنا پروگرام منسوخ کر دیا تھا، لیکن اب جنگ بندی ہوتے ہی امریکی وفد کے دیگر اعلیٰ ارکان سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں، جہاں ہفتے کے دن ایرانی وزیر خارجہ بھی پہنچ جائیں گے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دونوں فریقین اب جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے باریک اور تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا پورا ارادہ رکھتے ہیں۔

لبنان میں ہونے والی یہ جنگ بندی امریکی اور قطری مذاکرات کاروں کی کوششوں اور ایران کی مدد سے ممکن ہوئی ہے، جس کی تصدیق دونوں طرف کے عسکری اور سرکاری ذرائع نے بھی کر دی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اگر دوسری طرف سے حملہ نہیں ہوتا تو وہ حملہ نہیں کریں گے، تاہم وہ اپنی فوجیں جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقے میں ہی رکھیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی گھنٹے میں لبنان پر کچھ فضائی حملے شروع کردیے تھے۔ امریکی انٹیلی جنس حکام نے صدر ٹرمپ کو برہیفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایران سے معاہدہ برداشت نہیں ہو رہا اور وہ اس کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے ہونے والے حملوں میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے۔ لبنان کی یہ لڑائی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہاں جنگ کا خاتمہ امریکا اور ایران کے بڑے امن معاہدے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقے میں ان تکنیکی مذاکرات کی تیاریاں پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں۔ سوئس وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرچہ ملاقات میں کچھ تاخیر ہوئی، لیکن وہ اس امن عمل میں مدد کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ابتدائی کام جاری ہے۔

اس بڑے عارضی معاہدے کے تحت امریکا، ایران اور ان کے اتحادیوں کے لیے تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنا لازمی ہے۔

دوسری طرف، ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگر معاہدے کے وعدوں کی کوئی بھی خلاف ورزی ہوئی، یا لبنان میں لڑائی دوبارہ شروع ہوئی، تو اس کی پوری ذمہ داری امریکا پر ہوگی۔

اس کے ساتھ ہی، لبنان کی خود مختاری کو برقرار رکھنے اور وہاں امن قائم کرنے کے لیے واشنگٹن میں اگلے چند دنوں میں نئے مذاکرات کرنے پر بھی بات چیت چل رہی ہے۔

یہ بڑی جنگ اسی سال فروری میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی جس میں اب تک کم از کم سات ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں، اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل مہنگا ہوا اور مہنگائی کی لہر آئی تھی۔

تاہم، اس نئے امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل دوبارہ بہتر ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ایران کی طرف سے اس سمندری راستے کو سنبھالنے والے ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران وہ جہازوں پر لگائے جانے والے ٹیکس معاف کر دیں گے۔

اس معاہدے کے تحت ایران پر لگی معاشی پابندیاں ختم کی جائیں گی، اس کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال ہوں گے اور تیل بیچنے کی فوری اجازت دی جائے گی، جبکہ ایران کی دوبارہ تعمیر کے لیے تین سو ارب ڈالر کا فنڈ بھی شامل ہے۔

اگرچہ امریکی صدر کو اپنے ہی ملک میں کچھ سیاسی اتحادیوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے ایران کو بہت زیادہ رعایتیں دے دیں، لیکن انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے ایران کو کمزور کر دیا ہے اور وہ یہ مذاکرات مجبوری میں کر رہا ہے، اس لیے ساٹھ دن کے اس وقت کے دوران ایران کو ابھی کوئی پیسہ نہیں دیا جا رہا۔

Related posts