ذکرِ حسینؓ عزت کا استعارہ ہے، اور یزیدیت ذلت کا عنوان”کالم 

ذکرِ حسینؓ عزت کا استعارہ ہے، اور یزیدیت ذلت کا عنوان”

جب سے یہ دنیا آباد ہوئی ہے، تاریخ نے ظلم و جبر کے بے شمار چہرے دیکھے ہیں، مگر شاید ہی کوئی نام ایسا ہو جو ذلت، رسوائی اور سفاکی کی علامت بن کر صدیوں کے فاصلے طے کر گیا ہو۔ ڈیڑھ ہزار برس گزر جانے کے باوجود جب بھی ظلم کی کوئی مثال دینی پڑتی ہے تو زبان پر وہی نام آتا ہے جسے دنیا یزید کے نام سے جانتی ہے۔
آج صرف ناحق قتل ہی نہیں، بلکہ ناانصافی کی ہر صورت، حق سے ہر انحراف، اور عدل کے سیدھے راستے سے ہر بھٹکاؤ کو یزیدیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ گویا یزید ایک فرد کا نام نہیں رہا، بلکہ ظلم، جبر اور باطل کی دائمی علامت بن چکا ہے۔
اس کے برعکس، حسینؓ ایک شخصیت سے بڑھ کر حق، صداقت، استقامت اور عزتِ نفس کا استعارہ بن گئے ہیں۔ جس نے حق کا ساتھ دیا، ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا اور سچائی کی شمع کو روشن رکھا، وہ حسینؓ کے قافلے کا مسافر ہے۔ اور جس نے عدل و انصاف کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کی، وہ یزیدیت کے اندھیروں میں جا کھڑا ہوا۔
بے شک عزت اور ذلت کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ حسینؓ کا ذکر مزید روشن، مزید تابندہ اور مزید زندہ ہوتا گیا، جبکہ یزید کا نام نفرت، ملامت اور عبرت کی داستان بن کر رہ گیا۔
حسینیت اور یزیدیت کا یہ معرکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ حق و باطل کی یہ کشمکش ہر دور میں نئے روپ دھارتی رہے گی، مگر انجام وہی رہے گا جو کربلا نے دنیا کو سکھایا تھا: عزت حق کے حصے میں آتی ہے اور رسوائی باطل کا مقدر بنتی ہے۔ اس دنیا میں بھی ذکرِ حسینؓ زندہ ہے، اور آنے والے جہانوں میں بھی زندہ رہے گا؛ جبکہ ذلت و ندامت یزیدیت کا ایسا سایہ ہے جو اس کے نام سے کبھی جدا نہیں ہوگا۔

اشفاق احمد سالک

Leave a Comment