فیفا ورلڈ کپ میں کانگو کا ‘زندہ مجسمہ’: وبا کے باوجود امریکا پہنچنے کا خواب کیسے پورا ہوا؟
کانگو کے مشہور ترین فٹ بال فین، مشیل نکلوکا مبولاڈنگا، تمام تر سفری مشکلات اور پابندیوں کو عبور کر کے بالاآخر میکسیکو میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ کے اسٹیڈیم میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔
مشیل کے لیے اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے میکسیکو کے اسٹیڈیم تک پہنچنا ایک امتحان سے کم نہیں تھا۔ اس سے قبل جب کانگو کی ٹیم 52 سال بعد ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر رہی تھی، تو مشیل ویزا نہ ملنے کی وجہ سے وہ تاریخی میچ دیکھنے جمیکا نہیں جا سکے تھے۔ انہوں نے کینیا اور ایتھوپیا کے چکر بھی کاٹے لیکن ویزا وقت پر نہ مل سکا۔ اس بار جب وہ میکسیکو پہنچے، تو صحت کی سخت پابندیوں جوکہ ایبولا قرنطینہ کے باعث تھیں وہ پرتگال کے خلاف کانگو کا پہلا میچ بھی مس کر گئے۔
تاہم، کولمبیا کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ان کا یہ انتظار ختم ہوا اور وہ اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ اگرچہ کانگو کی ٹیم یہ میچ 0-1 سے ہار گئی، لیکن مشیل نے اپنے مخصوص انداز سے پورے اسٹیڈیم اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لی۔ وہ میچ شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی اپنی نشست پر پہنچ گئے تھے۔
انہوں نے لمومبا کے روپ میں سرخ جیکٹ، پیلی شرٹ اور نیلی پتلون پہن رکھی تھی اور میچ شروع ہوتے ہی وہ کانگو کے کھلاڑیوں کے بینچ کے پیچھے ایک اسٹینڈ پیڈسٹل پر اپنا دایاں ہاتھ اٹھائے، بالکل بے حس و حرکت کھڑے ہو گئے۔ وہ ہاف ٹائم کے بعد چند منٹ کی تاخیر سے واپس آئے، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد بھی کچھ دیر تک اسی طرح مجسمہ بنے کھڑے رہے۔
میچ کے بعد جب میڈیا نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اپنا ’مجسمے کا پروٹوکول‘ برقرار رکھتے ہوئے انٹرویو دینے کے بجائے صرف مسکرا کر اور سر ہلا کر ورلڈ کپ میچ میں پہنچنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
مشیل کوئی عام فٹ بال فین نہیں ہیں، بلکہ وہ فٹ بال کی دنیا میں ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ وہ ’افریقہ کپ آف نیشنز‘ کے دوران اس وقت پوری دنیا میں وائرل ہوئے جب انہوں نے میچز کے دوران اپنے ملک کے بانی اور آزادی کے عظیم ہیرو ’پیٹرس لمومبا‘ کا روپ دھارا۔ مشیل کا مقصد فٹ بال جیسے بڑے عالمی پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے ملک کی تاریخ، آزادی کی جدوجہد اور اپنے قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔
وہ نہ صرف پیٹرس لمومبا جیسا لباس پہنتے ہیں، بلکہ اپنی شکل و شباہت کی وجہ سے بالکل ان کا ہم شکل دکھائی دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فٹ بال کے مداح انہیں محبت سے ’لمومبا ویا‘ یعنی لمومبا کا عکس یا روپ بھی کہتے ہیں۔ ان کا اندازِ حمایت سب سے انوکھا ہے، وہ پورے 90 منٹ کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں ایک ’زندہ مجسمے‘ کی طرح اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیے بالکل ساکت یعنی بے حس و حرکت کھڑے رہتے ہیں۔
تاریخی پس منظر: پیٹرس لمومبا کون تھے؟
مشیل جس شخصیت کا روپ دھارتے ہیں، وہ پیٹرس لمومبا تھے جنہوں نے 1960 میں بیلجیم کی طویل اور ظالمانہ غلامی سے کانگو کو آزاد کرانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ آزاد کانگو کے پہلے وزیر اعظم بنے اور انہیں افریقہ کا سب سے روشن مستقبل سمجھا جا رہا تھا، لیکن آزادی کے ایک سال کے اندر ہی یعنی 1961 میں انہیں ایک بین الاقوامی سازش کے تحت اغوا کر کے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
ان کے قتل کے حوالے سے حال ہی میں تاریخ کی ایک بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جہاں بیلجیم کی ایک عدالت نے 93 سالہ سابق سفارت کار ’ایٹین ڈاوینیون‘ پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ یہ بوڑھے سفارت کار ان 10 بیلجیئن شہریوں میں سے آخری زندہ شخص ہیں جن پر لمومبا کے اغوا اور قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشیل کا اسٹیڈیم میں یہ روپ دھارنا اس وقت دنیا بھر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔