اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے خلاف لبنان میں مظاہرے پھوٹ پڑے
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جمعے کی رات حزب اللہ کے حامیوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کے ایک رکن پارلیمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاہدے پر عمل درآمد کی کوشش کی تو ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) کے مطابق حزب اللہ کے حامی موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر بیروت کی مختلف سڑکوں، مرکزی علاقوں اور ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ پر نکلے اور لبنان اور اسرائیل کے درمیان اعلان کردہ فریم ورک معاہدے کے خلاف نعرے بازی کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق مظاہرین موٹر سائیکلوں پر شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرے اور نعرے لگاتے رہے، جبکہ دارالحکومت کی کئی اہم سڑکوں پر لبنانی فوج نے عارضی چیک پوسٹیں بھی قائم کر رکھی تھیں تاکہ صورتحال پر قابو رکھا جا سکے۔
اُدھر امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے معاہدے اور اس سے متعلق پیش رفت کو مسترد کر دیا۔
حزب اللہ کے رہنما اور لبنانی پارلیمان کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی پیش رفت دراصل اسلام آباد ٹریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے اور ان کی جماعت اس کے نتائج کو قبول نہیں کرے گی۔
حسن فضل اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حزب اللہ لبنانی حکام کی جانب سے کیے جانے والے ہر اس اقدام کا بھرپور مقابلہ کرے گی جو تنظیم کے مؤقف کے خلاف ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیار پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے تیار رکھے گی اور لبنانی حکام کو اپنے ان وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرنے دے گی جنہیں تنظیم لبنان کے مفادات کے خلاف سمجھتی ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کو واشنگٹن میں لبنان، اسرائیل اور امریکا نے ایک سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے دونوں دیرینہ حریف ممالک کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ فی الحال معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم اسے کئی دہائیوں کی کشیدگی اور حالیہ لڑائی کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے یہ فریم ورک لبنان میں امن کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لبنان اور اسرائیل کے عوام ایک محفوظ اور پُرامن مستقبل میں زندگی گزار سکیں۔
لبنان کے سفیر نے بھی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک لبنان کی خودمختاری کی بحالی کی جانب پہلا اہم قدم ہے اور اس سے ملک میں سیاسی و سیکیورٹی استحکام کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
تاہم حزب اللہ کے سخت مؤقف نے واضح کر دیا ہے کہ معاہدے پر داخلی سطح پر اتفاق رائے موجود نہیں، جس کے باعث اس فریم ورک پر عمل درآمد اور خطے میں دیرپا امن کے امکانات کو کئی سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔