حماد بن خلیفہ الثانی نے قطر کی قسمت کیسے بدلی؟
قطر کے سابق امیر شیخ حماد بن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے ہیں۔ وہ 74 برس کے تھے۔ شیخ حماد کو جدید قطر کا معمار کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے دور حکومت میں یہ چھوٹی خلیجی ریاست دنیا کے امیر ترین اور بااثر ممالک میں شامل ہو گئی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق شیخ حماد نے 1995 میں قطر کی حکمرانی سنبھالی اور ملک کی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے قطر کے قدرتی گیس کے وسیع ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے معیشت، تعلیم، سیاست اور سماجی شعبوں میں اصلاحات کیں۔ ان کے دور میں قطر کی معیشت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قطر کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 24 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ شمالی گیس فیلڈ سے پیداوار بڑھنے کے بعد قطر 2006 تک دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کرنے والا ملک بنا۔ ملک کی ایل این جی پیداوار کی صلاحیت 77 ملین ٹن سالانہ تک پہنچ گئی۔
شیخ حماد کے دور حکومت میں کئی اہم ادارے اور منصوبے قائم ہوئے۔ 1996 میں الجزیرہ نیوز چینل کا آغاز ہوا، قطر فاؤنڈیشن قائم کی گئی، 2004 میں ملک کا پہلا مستقل آئین نافذ کیا گیا اور بلدیاتی انتخابات متعارف کرائے گئے جن میں خواتین کو ووٹ دینے اور امیدوار بننے کا حق بھی دیا گیا۔
ان کی قیادت میں قطر نے 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا حق حاصل کیا، جو کسی بھی عرب ملک میں ہونے والا پہلا عالمی فٹبال کپ تھا۔
شیخ حماد بن خلیفہ آل ثانی جنوری 1952 میں دوحہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں قطر کی مسلح افواج کے سربراہ بنے۔ 1977 میں وہ ولی عہد اور وزیر دفاع مقرر ہوئے، جبکہ 27 جون 1995 کو انہوں نے امیر کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔
2013 میں شیخ حماد نے اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم بن حماد آل ثانی کے حوالے کیا۔ یہ منتقلی خطے میں ایک غیر معمولی اور پرامن سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھی گئی۔
اقتدار چھوڑنے کے موقع پر شیخ حماد نے کہا تھا کہ مستقبل آپ کے سامنے ہے، اے وطن کے بچوں، آپ ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں نوجوان قیادت ملک کا جھنڈا بلند کرے گی۔
شیخ حماد نے قطر کو عالمی سفارت کاری میں بھی ایک اہم کردار دیا۔ ان کے دور میں قطر نے مختلف عالمی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کیں، جن میں سوڈان کے دارفور علاقے کا تنازع، لبنان کے سیاسی اختلافات اور فلسطینی گروپ حماس اور فتح کے درمیان معاملات شامل تھے۔
افغانستان کے معاملے میں بھی قطر نے اہم کردار ادا کیا۔ شیخ حماد کے دور کے آخری برسوں میں قطر نے طالبان کے لیے ایک دفتر کھولا، جس کے بعد امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا راستہ ہموار ہوا، جو بعد میں 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے معاہدے تک پہنچے۔
عرب اسپرنگ کے دوران قطر ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی احتجاجی تحریکوں کی حمایت کی۔ مصر میں الجزیرہ نے حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود مظاہروں کی کوریج جاری رکھی۔
شام کے معاملے میں قطر نے ابتدا میں صدر بشار الاسد سے مظاہرین کے خلاف کارروائی روکنے اور اقتدار چھوڑنے کی اپیل کی، تاہم بعد میں دمشق حکومت سے تعلقات ختم کر دیے۔
لیبیا کے معاملے میں قطر نے نیٹو کی فوجی کارروائی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کی حکومت ختم ہوئی۔
شیخ حماد کے لیے فلسطین کا مسئلہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔ ان کے آخری سرکاری دوروں میں سے ایک غزہ کا دورہ بھی تھا، جہاں وہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد جانے والے پہلے سربراہ مملکت بنے۔
شیخ حماد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات کو قطر کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لیے ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی جانب سے کیے گئے معاشی، سیاسی اور سفارتی اقدامات نے قطر کی موجودہ شناخت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔