امریکا – ایران ممکنہ امن معاہدے سے قبل اسرائیل کے لبنان پر حملے، ایران کی سخت وارننگ
اسرائیلی فوج کے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں فضائی حملے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 15 ہوگئے ہیں، جس پر ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا یا تو وعدہ نبھانے میں پختہ نہیں یا پھر اس کی اہلیت ہی نہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر دستخط متوقع ہیں جب کہ خطے میں سیکیورٹی صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اتوار کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔
لبنانی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافات کے علاقے غبیری میں اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 3 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ ملبہ ہٹانے کا کام بھی مسلسل کیا جا رہا ہے تاکہ دیگر ممکنہ متاثرہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں، دکانوں اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے باعث علاقے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد عمارتوں کے اگلے حصے متاثر ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے دو جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی حصے پر 4 گائیڈڈ میزائل داغے۔ حملے کے ممکنہ اہداف کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
بیروت پر بمباری: اسرائیل کو ایران کے جوابی حملے کا خطرہ
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کو لبنان کے دارالحکومت بیروت پر فضائی بمباری کے بعد ایران کے ممکنہ جوابی حملے کا خطرہ ہے، جس کے پیش نظر اسرائیلی علاقوں میں خطرے کا الرٹ بڑھا دیا گیا ہے اور سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق آئی ڈی ایف نے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ بیروت میں حزب اللہ پر کیے گئے حالیہ فضائی حملے کے بعد آنے والے گھنٹوں میں اسرائیل پر ایران کی جانب سے جوابی میزائل حملے ہو سکتے ہیں جس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسرائیل کے بیروت پر حملے کے بعد چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر تمام متعلقہ کمانڈرز کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور موجودہ اندازوں کے مطابق ایران اسرائیل پر میزائل داغے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی افواج مختلف دفاعی اور جارحانہ منظرناموں کے لیے اپنی تیاری اور چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، اسرائیل کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی گولہ باری یا حملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسرائیل کا حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اس سے قبل اسرائیلی خبر رساں ادارے یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیلی علاقے کی جانب حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ”اسرائیل اپنی سرزمین پر کی جانے والی فائرنگ برداشت نہیں کرے گا۔“
اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں ضاحیہ میں واقع حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جسے تنظیم کی جانب سے اسرائیلی شہریوں اور جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایرانی رہنماؤں کا بیروت میں اسرائیلی حملوں پر رد عمل
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں باقر قالیباف نے لکھا کہ صیہونیوں کی ضاحیہ میں دراندازی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکا یا تو اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں یا پھر ان پر عملدرآمد کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر کسی قسم کی رعایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول خطے کی صورت حال نے واضح کر دیا ہے کہ ”اچھے اور برے سپاہی“ کا روایتی کھیل اب پرانا ہو چکا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر کوئی فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ صلاحیت رکھتا ہو اور نہ ہی اس کا ارادہ ہو تو پھر اس راستے پر آگے بڑھنے یا بات چیت جاری رکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ موجودہ صورت حال میں اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل کے لیے عملی اقدامات اور وعدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کا راستہ ”صہیونی حکومت کو قابو میں لانے“ سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اگر ”اس پاگل کتے“ کو قابو میں نہ لایا گیا تو معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی یہ دوبارہ حملہ آور ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اتوار کی صبح حزب اللہ کی جانب سے کئی ڈرون اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جس کے بعد شمالی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اس پیش رفت کے بعد اسرائیلی حکومت کے متعدد وزرا نے حزب اللہ اور ضاحیہ کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹرچ نے حکومت پر زور دیا کہ ضاحیہ پالیسی پر ”مضبوطی اور فیصلہ کن انداز“ میں عمل کیا جائے۔
اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں حزب اللہ کے خلاف مزید سخت ردعمل کی حمایت کی۔
دوسری جانب گزشتہ ہفتے ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کی کارروائیاں لبنان میں اسرائیلی اقدامات کے جواب میں کی گئی تھیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے تو اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کو دستخط متوقع ہیں اور معاہدے کے فوراً بعد آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور معاہدے کا حتمی متن تیار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں الیکٹرانک دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔