ایران اور پاکستان کے دکھ سکھ مشترک ہیں، کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایران کو ہر مشکل گھڑی میں مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے میں دیانت داری اور خلوص کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد میں ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اسلام آباد میں صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ بھائی ہیں اور دونوں ممالک کے عوام مذہب، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کا آغاز فارسی کے ایک شعر سے کیا، جس کا مفہوم تھا کہ ’خوشی میں تو ہر کوئی ہاتھ تھامنے کو تیار ہوتا ہے لیکن سچے دوست کی پہچان مصیبت، پریشانی اور آزمائش کے وقت ہوتی ہے۔‘
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ایرانی وفد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی خوشی ہماری خوشی اور آپ کا غم ہمارا غم اور نقصان ہمارا نقصان ہے۔‘ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک بھائی کی حیثیت سے ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔‘
ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے فارسی میں شعر پڑھ کر محفل لوٹ لی، حاضرین کی بھرپور داد pic.twitter.com/j2xwU6odwt
— Hamza Awan (🇵🇰♥️🐅) (@HamzaAw31785313) June 23, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر پزشکیان کے ساتھ ملاقات انتہائی خوشگوار اور نتیجہ خیز ماحول میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات کسی رسمی سفارتی نشست کے بجائے خاندانی ملاقات کا منظر پیش کر رہی تھی، جس میں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے حالیہ جنگ کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی عوام سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ہزاروں بے گناہ ایرانیوں خصوصاً بچوں کی شہادت پر دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت اور رہنمائی کی تعریف کرتے ہوئے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایرانی قوم نے مشکل حالات میں جس اتحاد اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع پورے خطے اور دنیا میں پھیل سکتا تھا، تاہم مذاکرات کے آغاز سے امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے ہمیشہ مشکل اوقات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور حالیہ واقعات نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے، دوستی اور شراکت داری کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔
وزیراعظم نے امن عمل میں معاونت اور حوصلہ افزائی پر امیرِ قطر شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان حضرات کی مسلسل کوششوں نے اس اہم ترین پیش رفت کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ ایرانی عوام کو پاکستان کی یکجہتی کا پیغام بھی پہنچائیں گے۔ وزیراعظم نے ’پاک ایران دوستی زندہ باد‘ کا نعرہ لگا کر اس پریس کانفرنس کا باقاعدہ اختتام کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب کا آغاز علامہ اقبال کے اشعار سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران صرف ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ یک جان دو قالب، بھائی اور دوست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ مستقبل اور منزل کی شراکت دار دو برادر قومیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام، خیرسگالی اور اعتماد کی بنیاد پر تعلقات ہمیشہ استوار رہے ہیں، حالیہ پیش رفت نے اس تاریخی اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان نے ذمہ دارانہ اور دوراندیش رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قبول کرنا دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط اعتماد کا ثبوت ہے۔