ایران کا ٹرمپ کے بیانات پر احتجاج، امن معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ

سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے امریکا۔ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد وقفہ ہوا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے اختتام پر چاروں وفود مشاورت کے لیے اپنے کمروں میں واپس چلے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے پہلے مرحلے میں لبنان کی صورت حال اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی، اسی دوران ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکا-ایران مذاکرات کے پہلے دور میں لبنان کی صورت حال اور جنگ بندی سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔

رپورٹ کے مطابق اگلے مراحل میں دن بھر مختلف موضوعات پر نشستیں متوقع ہیں، جن میں خطے کی سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے العریبیہ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے واضح مؤقف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی کے اعلان تک کسی دوسرے مسئلے پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات میں تہران کی شرکت کا مقصد ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے پر مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوسکتے جب تک اس دستاویز کے پانچ اہم نکات پر عمل درآمد نہ کی ضمانت نہ دی جائے۔

سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں جاری اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وفد میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔

ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جب کہ ان کے ہمراہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی بھی موجود ہیں۔

پاکستان اس پورے عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے علاوہ پاکستان کا اعلیٰ سطح وفد بھی سوئٹرزلینڈ میں موجود ہے جب کہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی بھی ثالثی کے عمل میں شریک ہیں۔

برگن اسٹاک میں دونوں ملکوں کی انتہائی اہم بیٹھک شروع ہونے سے قبل کئی دلچسپ مناظر دیکھنے میں آئے۔

ایرانی وفد نے نہ ہی میڈیا سے گفتگو اور نہ ہی فوٹو سیشن میں دلچسپی ظاہر کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی وفد کے سربراہ کی جانب سے لیا گیا تھا، جس کے بعد میڈیا سیشن ایرانی نمائندوں کے بغیر ہی مکمل ہوگیا۔

مذاکرات سے قبل کانفرنس ہال میں پہلے امریکی وفد داخل ہوا، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی وفد کا استقبال کیا۔ کچھ دیر بعد ایرانی وفد میں سے عباس عراقچی ہال میں داخل ہوئے، میڈیا کی موجودگی کے دوران باقر قالیباف ہال میں نہیں آئے۔ عباس عراقچی پاکستانی قیادت سے والہانہ انداز میں ملے اور پھر ہال کی ایک جانب چلے گئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس یہاں وہاں دیکھتے ہوئے صورت حال کا جائزہ لیتے رہے۔ جیسے ہی انہوں نے عباس عراقچی کو روانہ ہوتے دیکھا، وہ وزیراعظم شہباز شریف کے پاس پہنچے، اسی دوران قطری وزیراعظم بھی مذاکراتی ہال میں داخل ہوئے، جس کے بعد تینوں رہنماؤں نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔


اس موقع پر یہ خبر بھی سامنے آئی کہ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات سے قبل قطر کی ثالثی میں براہِ راست ملاقات بھی ہوئی ہے، تاہم اس خبر کی کسی آفیشل ذریعے نے تصدیق نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور قطر اس اہم ترین مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات میں تعمیری گفتگو ہوگی اور اس کے مثبت اور نتیجہ خیز اثرات سامنے آئیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہا جب کہ امریکا اور ایران کو ایک میز پر لانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیرکے خصوصی کردار کی بھی تعریف کی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا اختیار دیا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ مذاکرات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

جے ڈی وینس نے اس موقع پر مزاحیہ انداز میں پاکستان، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں دو لوگ مجھے بےحد پسند ہیں جن میں سے ایک بھارتی اور دوسرے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی شخصیت میری اہلیہ جب کہ پاکستانی شخصیت فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم سفارت کار کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں ان کے کردار کے بغیر یہاں تک پہنچنا ناممکن تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران میری جتنی گفتگو فیلڈ مارشل سے ہوئی، کسی اور سے نہیں ہوئی ہے۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے بھی مذاکرات سے قبل گفتگو کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے وفود کی کوششوں کو سراہا اور مذاکرات کا کریڈٹ پاکستان کو دیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر ثالثی کے اس عمل میں کردار ادا کرتا رہے گا اور اس وقت تک اپنی کوششیں جاری رکھے گا جب تک کوئی باضابطہ حل نہ نکل آئے۔

مذاکرات سے قبل باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی وفد سے بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر شامل تھے۔

اس ملاقات سے قبل برگن اسٹاک میں موجود پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے مذاکرات میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر جے ڈی وینس نے کہا کہ پاکستان نے امن بہترین کردار کیا ہے، ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں سوئٹزرلینڈ میں ایک یا دو دن قیام کروں گا۔ مجھے پوری امید ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام اور لبنان کے معاملے پر کوئی اچھی پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لبنان میں جاری لڑائی کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، ہم اسرائیل کو لبنان پر مزید حملے کرنے سے روکنے کے لیے کام کریں گے۔‘

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ بیانات میں ایران اور اسکی قیادت کے لیے دوبارہ دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدے پر اتفاق نہیں کیا تو میں اسے تباہ کردوں گا۔ انہوں نے ڈھکے چھپے الفاظ میں ایرانی وفد کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’پھر تم لوگ اپنے ملک میں واپس بھی نہیں جاسکو گے‘۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے یورنیم افزودگی کے حوالے سے بیان سے متعلق سوال پر کہا کہ ’بہتر ہے کہ پزشکیان سدھر جائیں ورنہ ہم سمندر کے علاوہ باقی ملک پر بھی قبضہ کرلیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران کے ساتھ ڈیل نہیں بلکہ سیزفائر کی وقتی توسیع ہے، تمام کارڈز امریکا کے پاس ہیں، ہمارے پاس متعدد آپشنز ہیں، 60 دن بعد میں جو چاہے کروں گا، ضرورت پڑی تو واشنگٹن آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر ٹول ٹیکس بھی چارج کرسکتا ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کے معاملے پر بھی اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے بجائے ایران کو ایک بار پھر دھمکیاں دی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری طور پر روکنا ہوگا اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکا ایران پر پہلے سے زیادہ شدید حملے کرے گا۔

ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ مذاکرات میں لبنان کا معاملہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل پیش رفت کے لیے لبنان میں جنگ بندی اور اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ضمانتیں ضروری ہیں۔

Related posts