بھارت: کوچنگ سینٹر کی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 15 طلبا ہلاک
بھارتی شہر لکھنؤ کے علاقے علی گنج میں ایک تین منزلہ کوچنگ سینٹر کی عمارت میں لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، جہاں تنگ راستے اور محدود باہر نکلنے کے دروازے 15 افراد کی موت کا سبب بن گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تمام اموات دم گھٹنے سے ہوئیں۔
بھارتی ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز آگ کی زد میں آنے والے کوچنگ سینٹر میں صرف ایک ہی داخلی اور خارجی راستہ موجود تھا، جو خود بھی انتہائی تنگ تھا۔ اسی واحد راستے کے ساتھ ائیرکنڈیشنر کے پینل، بجلی کی تاریں اور مختلف آلات بے ترتیبی سے نصب تھے، جس نے آگ لگنے کے بعد اس راستے کو مکمل طور پر ایک خطرناک چوک پوائنٹ میں بدل دیا۔
عمارت میں ایک ہی سیڑھی موجود تھی جو نچلی منزل، پہلی منزل اور اوپر کی منزلوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ جیسے ہی آگ پھیلی، یہی سیڑھی اور داخلی راستہ دھوئیں سے بھر گئے، جس کے باعث لوگوں کے لیے باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق آگ مبینہ طور پر گراؤنڈ فلور پر موجود پالتو جانوروں کی دکان سے شروع ہوئی، جہاں تہہ خانے میں سامان بھی رکھا جاتا تھا۔ اس کے بعد آگ نے تیزی سے اوپر کی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لیا، جہاں ایک اسٹوڈیو اور کوچنگ سینٹر قائم تھے۔
ریسکیو ٹیموں کے مطابق جب وہ موقع پر پہنچیں تو عمارت کے اندر دھواں بھر چکا تھا اور کوئی متبادل ایمرجنسی ایگزٹ پوائنٹ موجود نہیں تھا۔
فائر بریگیڈ اہلکاروں نے بتایا کہ انہیں براہ راست راستوں سے اندر جانا ممکن نہیں تھا، اس لیے انہوں نے متبادل حکمت عملی اپنائی۔
ریسکیو اہلکاروں نے ہائیڈرولک کٹر، ہتھوڑوں اور ڈرل مشینوں کی مدد سے ساتھ والی عمارت کی دیوار توڑ کر راستہ بنایا۔ جب پہلی بار دیوار میں سوراخ کیا گیا تو اندر سے سیاح دھواں باہر نکلا، جس نے لمحہ بھر کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو بھی متاثر کر دیا۔ بعد میں دھواں کم کرنے کے لیے ایگزاسٹ فینز استعمال کیے گئے تاکہ اندر داخلہ ممکن بنایا جا سکے۔
اسی دیوار کو بعد میں ریسکیو کے مرکزی راستے کے طور پر استعمال کیا گیا، جہاں سے اسٹریچرز کے ذریعے زخمیوں اور ہلاک افراد کو نکال کر ساتھ والی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران فائر بریگیڈ نے اطراف کی دیوار کا ایک حصہ بھی گرا دیا تاکہ ہائیڈرولک پلیٹ فارم اور درجن سے زائد فائر ٹینڈرز تنگ گلیوں تک پہنچ سکیں۔
مقامی حکام اور شہریوں کی جانب سے اس بات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ رہائشی علاقے میں اس طرز کی بند اور خانے نما کمرشل عمارت کیسے قائم اور فعال رہی۔ لکھنؤ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام اس حوالے سے جانچ اور تنقید کی زد میں ہیں کہ رہائشی استعمال کے لیے منظور شدہ عمارت میں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت کیسے دی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس سب صورتحال کے دوران ایک نوجوان نے خوف اور بے بسی میں اپنے اہل خانہ کو فون کیا اور خود کو بچانے کے لیے التجا کی.چند ہی لمحوں بعد ایک اور کال میں وہ اپنے والد سے آخری الفاظ کہتا سنائی دیا جس میں وہ اپنے والد سے کہہ رہا تھا کہ پاپا مجھے بچالو۔
عینی شاہدین کے مطابق عمارت کے اندر سے مسلسل چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا عمارت کے اندر سے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔
آگ کے پھیلاؤ کے باعث کئی طلبہ نے آخری امید کے طور پر باتھ رومز میں پناہ لی، جہاں وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید مدد وقت پر پہنچ جائے۔ کچھ نے کھڑکیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر راستے بند ہو چکے تھے۔
اسی دوران ایک انتہائی دل دہلا دینے والا منظر سامنے آیا جب ایک طالب علم نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا دی۔ وہ نیچے لگے ہوئے گرِل پر آ گرا اور شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایک اور زندہ بچ جانے والے شخص نے اپنی جلی ہوئی حالت میں بتایا کہ سب کچھ جل رہا تھا۔ ہم بھاگ رہے تھے۔ ہم نے جلتی ہوئی تار کے ذریعے نیچے چھلانگ لگائی۔ بچنے کی کوشش میں میرے ہاتھ جل گئے۔
عمارت کے اندر موجود افراد کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند منٹوں میں پوری بالائی منزلیں دھوئیں سے بھر گئیں اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ لوگ کسی بھی ممکنہ راستے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔