کامن ویلتھ گیمز سے کرکٹ باہر: اس سال میچ کیوں نہیں ہوں گے؟
کامن ویلتھ گیمز 2026 کا میلہ اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں شروع ہو رہا ہے، تاہم اس بار کھیلوں کے مداحوں کوبڑا جھٹکا لگا ہے، کیونکہ کرکٹ ان کھیلوں کا حصہ نہیں ہوگی۔ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ ہاکی، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، ریسلنگ اور رگبی سیونز سمیت مجموعی طور پر نو کھیلوں کو بھی اس ایڈیشن سے نکال دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ کرکٹ کو پہلی بار 1998 کے کامن ویلتھ گیمز میں شامل کیا گیا تھا، جو ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہوئے تھے، جس کے بعد 24 سال تک یہ کھیل مقابلوں کا حصہ نہیں رہا۔
2022 میں برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں 24 کرکٹ کی واپسی ہوئی تھی جہاں خواتین کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے فائنل میں آسٹریلیا نے بھارت کو شکست دے کر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔ لیکن اس سال نہ تو خواتین کی کرکٹ ہوگی اور نہ ہی مردوں کی ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔
رپورٹس کے مطابق کامن ویلتھ گیمز 2026 کی میزبانی ابتدائی طور پر آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کو دی گئی تھی، لیکن جولائی 2023 میں وکٹورین حکومت نے بڑھتے ہوئے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے میزبانی سے دستبرداری اختیار کر لی۔ حکام کے مطابق گیمز کے انعقاد پر لاگت 6 سے 7 ارب آسٹریلوی ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ تھا جو ان کے بس سے باہر تھا۔
اس صورتحال کے بعد کامن ویلتھ گیمز کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے، تاہم اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو نے آخری وقت میں میزبانی کی ذمہ داری قبول کر لی۔ منتظمین اور کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن نے محدود وسائل میں ایونٹ کو ممکن بنانے کے لیے کم خرچ ماڈل اختیار کیا۔
اسی حکمت عملی کے تحت کھیلوں کی تعداد کو گزشتہ ایڈیشن کے 19 سے کم کر کے صرف 10 کر دیا گیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار صرف وہی کھیل شامل کیے گئے ہیں جو موجودہ اسٹیڈیمز اور انڈورسہولیات میں آسانی سے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
کرکٹ کو شامل نہ کرنے کی ایک اہم وجہ اس کے انتظامی اخراجات بتائے جا رہے ہیں۔ کرکٹ کے لیے خصوصی پچز کی تیاری، میدان کی دیکھ بھال اور بڑی ٹیموں کی موجودگی منتظمین کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے گلاسگو میں محدود بجٹ کے تحت کرکٹ کو ایونٹ سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین کے مطابق، ”ہمارا مقصد یہ تھا کہ مقابلوں کو کم لاگت اور دستیاب سہولیات کے اندر کامیابی سے منعقد کیا جائے، تاکہ ایونٹ کی منسوخی سے بچا جا سکے۔“
کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرکٹ کی غیرموجودگی یقیناً شائقین کے لیے مایوس کن ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جہاں یہ کھیل بے حد مقبول ہے۔ تاہم ان کے مطابق، موجودہ مالی حالات میں ایونٹ کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ کامن ویلتھ گیمز 2026 میں شامل 10 کھیلوں کے ساتھ مقابلوں کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ کرکٹ کے شائقین اب اس کھیل کی واپسی کے لیے مستقبل کے ایڈیشنز کا انتظار کریں گے۔