کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں؟ قومی مباحثے میں شرکا کی اہم تجاویز
ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے سسٹین ایبل ڈویلوپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کے امکانات، ضرورت اور طریقہ کار پر اظہار خیال کیا۔
”کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں؟“ کے عنوان سے قومی مباحثے میں مقررین نے قومی اتفاقِ رائے کے لیے کمیشن بنانے، اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے، لوکل گورنمنٹ کو مضبوط بنانے اور گورننس بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جب کہ بعض رہنماؤں نے اس معاملے کو تاریخی اور آئینی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت اجاگر کی۔
قومی مکالمے میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے اور اختیارات و وسائل کو نچلی سطح تک تقسیم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کو 8 ہزار 884 ارب روپے ملتے ہیں، تاہم اختیارات کی مؤثر منتقلی کا نظام موجود نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست کی حکمرانی کی صلاحیت بہتر اور عوامی خدمات کی فراہمی مؤثر ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرنے والوں کو ملنے والے وسائل روک دیے جائیں تو وہ نئے یونٹس کی مخالفت نہیں کریں گے۔ انہوں نے وسائل کی نچلی سطح تک تقسیم اور بہتر حکمرانی کو انتظامی اصلاحات کا اہم حصہ قرار دیا۔
سابق میئر لاہور میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں مؤثر مقامی حکومتوں کے تجربات موجود ہیں اور عوام کو اچھی طرز حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کی کارکردگی کو ان کی سیاسی ترقی اور عوامی اعتماد کا اہم معیار بنایا جانا چاہیے۔
میاں عامر محمود کے مطابق چھوٹے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام سے انتظامی اخراجات میں سالانہ 330 ارب روپے سے زیادہ کی ممکنہ بچت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مؤثر لوکل گورنمنٹ کو عوام تک بہتر خدمات کی فراہمی اور گورننس میں بہتری کے لیے اہم قرار دیا۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے تاریخی تناظر میں وجود میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث کو حساس معاملات، تاریخی پس منظر اور ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھانا ہوگا۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کوئی جماعت اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کرنا چاہتی۔ ان کے مطابق صرف نئے صوبے بنانے کے بجائے نظامِ حکومت اور اختیارات کی تقسیم پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر نظام یا قانون میں خرابی ہے تو اسے درست کیا جانا چاہیے۔ آئین موجود ہونے کے باوجود اگر اس پر مؤثر عمل نہیں ہورہا تو اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
قمر زمان کائرہ نے اس بات پر زور دیا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق بحث احتیاط اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق صوبے تاریخی تناظر میں وجود میں آتے ہیں، اس لیے اس معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ عوام کو زیادہ اختیارات دینے سے پاکستان مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لانا مؤثر حکمرانی کے لیے ضروری ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ اگر مزید صوبوں کے قیام سے حکمرانی بہتر ہوتی ہے اور فیصلہ سازی عوام کے قریب آتی ہے تو نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے انتظامی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جو عوام کو زیادہ بااختیار بنائیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سابق مشیر اور سابق وفاقی وزیر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام بنیادی طور پر سیاسی معاملہ ہے اور اس کے لیے اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
بیرسٹر سیف نے تجویز دی کہ سیاسی جماعتوں کی رائے سے ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے اس معاملے کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مضبوط اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔ بیرسٹر سیف کے مطابق موجودہ صوبائی طرز حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت ہے جبکہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترامیم بھی کرنا ہوں گی۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دیا جانا چاہیے، تاکہ ان کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین آئین میں موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو واضح آئینی اختیارات اور ذمہ داریاں دینے سے اختیارات کی نچلی سطح تک مؤثر اور بامعنی منتقلی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام آئین اور جمہوریت سے متصادم نہیں۔ انہوں نے انتظامی ضروریات، عوامی مفاد اور جمہوری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے پر سنجیدہ غور کی حمایت کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بحث کو آئینی اور جمہوری دائرے میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور اس معاملے میں عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ نئے صوبے بنائے بغیر لوکل گورنمنٹ کا نظام مؤثر طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔
فواد چوہدری نے نئے انتظامی یونٹس، اختیارات کی تقسیم اور شناخت کے معاملات کو ایک مربوط انتظامی ماڈل کے تحت دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایسا قابلِ عمل انتظامی نظام درکار ہے جو عوام کی ضروریات پوری کرسکے اور اختیارات و وسائل کی بہتر تقسیم ممکن بنائے۔
مباحثے میں مقررین نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام، قومی اتفاقِ رائے، آئینی طریقۂ کار، وسائل کی تقسیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، لوکل گورنمنٹ اور بہتر گورننس کے مختلف پہلوؤں پر اپنی آرا پیش کیں۔
مباحثے میں بعض رہنماؤں نے نئے صوبوں کے قیام کو انتظامی بہتری اور بہتر حکمرانی کا ذریعہ قرار دیا، جبکہ قمر زمان کائرہ نے صوبوں کے تاریخی تناظر اور آئینی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مختلف سیاسی نقطۂ نظر کے باوجود مباحثے میں اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط مقامی حکومتوں، بہتر گورننس اور عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی جیسے نکات نمایاں رہے۔
ایس ڈی پی آئی کا یہ قومی مکالمہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے، نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام، اختیارات کی تقسیم اور طرز حکمرانی میں ممکنہ اصلاحات پر سیاسی سطح پر جاری بحث کو آگے بڑھانے کا اہم پلیٹ فارم بن کر سامنے آیا۔