پمز سانحے کے بعد راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کا پول کھل گیا

راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام کی سنگین خامیاں سامنے آگئی ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے مکمل انتظامات موجود نہیں، جب کہ ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر ایکسٹنگوشرز کی تعداد بھی انتہائی کم ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق راولپنڈی کے الائیڈ سمیت دیگر اسپتالوں میں فائر سیفٹی سسٹم مکمل طور پر نصب نہیں۔ ہولی فیملی اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال اور بینظیر بھٹو اسپتال بھی مکمل فائر سیفٹی نظام سے محروم ہیں۔

حکام کے مطابق تینوں اسپتالوں میں فائر سیفٹی نظام کی مکمل تنصیب نہیں کی گئی۔ اسپتالوں میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی ایگزٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ریسکیو کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں فائر ایکسٹنگوشرز کی تعداد بھی بہت کم ہے، جب کہ آگ لگنے کی صورت میں بروقت اطلاع دینے کے لیے فائر ڈیٹیکشن کا کوئی نظام موجود نہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسپتالوں میں فائر ہائیڈرنٹس بھی نصب نہیں ہیں، جس کے باعث بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی صورت میں فوری طور پر اس پر قابو پانے کے لیے دستیاب سہولیات ناکافی قرار دی گئی ہیں۔

دوسری جانب پی کے ایل آئی یورالوجی اسپتال کے فائر سیفٹی نظام کے غیر فعال ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے ان انتظامات کی موجودہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

پمز سانحے کے بعد اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں اور آگ سے بچاؤ کے نظام کی موجودگی اور فعالیت ایک بار پھر اہم سوال بن گئی ہے۔ راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں سے متعلق سامنے آنے والی فائر سیفٹی کی خامیاں بھی اسی تناظر میں تشویش کا باعث ہیں۔

یاد رہے کہ بدھ کی صبح پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جب کہ ریسکیو ٹیموں نے 19 افراد کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا۔ سانحے کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیا گیا، جب کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی۔

پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ آگ ایئر کنڈیشن کے کمپریسر پھٹنے یا الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، بل کہ انکیوبیٹر کے ساتھ منسلک آکسیجن کی مقدار جانچنے والے نیبولائزر کے پھٹنے سے آگ لگی۔

رپورٹ کے مطابق آکسیجن نے فوری طور پر آگ پکڑی اور آگ تیزی سے پھیل گئی، جب کہ شدید دھواں اور آکسیجن کی فراہمی میں خلل بھی نومولود بچوں کی اموات کی وجوہ میں شامل رہا۔

سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ میں پمز کے فائر سیفٹی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات کو ناکافی قرار دیا گیا، تاہم ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے اس کے برعکس اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود ہونے کا دعویٰ کیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز سانحے کو دل خراش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس کی بھی غلطی ہوئی، اسے نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے، کوئی چیز نہیں چھپائی جائے گی اور ذمہ دار کو قرار واقعی سزا ملے گی۔

مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق جتنی تفصیلات وہ بتا سکتے تھے، بتا دی ہیں، تاہم بعض معاملات پر وزیراعظم کی ہدایت کے باعث مزید بات نہیں کرسکتے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئر کنڈیشن میں اسپارک ہوا، جس کی ویڈیو موجود ہے، جب کہ آگ پر قابو پانے کے لیے 26 سلنڈرز استعمال کیے گئے۔

Related posts