کوہاٹ میں دہشت گردی کے تانے بانے بھی افغانستان سے جا ملے
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردہ حملے کی تحقیقات کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق واقعے کے تانے بانے سرحد پار افغانستان سے مل گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہاٹ پولیس لائن مسجد میں حملے میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو کہ ایک افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔
جمعہ کو کوہاٹ میں واقع پولیس لائنز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کو کلیئرنس آپریشن مکمل کرتے ہوئے تمام آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی میں خودکش بمبار سمیت تمام حملہ آور مارے گئے ہیں، جن میں سے کچھ دہشت گرد اسپیشل برانچ میں بھی موجود تھے جنہیں فورسز نے کارروائی کے دوران ہلاک کیا۔
اس واقعے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 23 ہو گئی ہے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری شامل ہیں۔ شہدا میں اعلیٰ پولیس افسران بھی شامل ہیں جن میں ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر رینک کے اہلکار شامل ہیں۔ جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
اس پورے آپریشن کی نگرانی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے خود کی، جو خود بھی اس حملے کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق افغان شہری کی اس کارروائی میں شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے حال ہی میں سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ گزشتہ ماہ غلام خان کے قریب افغانستان سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 15 دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ جنوبی وزیرستان کے علاقے شوال میں بھی دراندازی روکتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے عناصر کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگا کر ان کے خلاف موثر کارروائیاں کی ہیں، جن میں کرم بارڈر پر سرحد پار کرنے کی ایک کوشش کو بھی ناکام بنانا شامل ہے۔
پاکستانی عسکری حکام اور عالمی برادری اس صورتحال پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ افغان طالبان حکومت نے افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم افغان سرزمین پر جنگجوؤں کی بھرتی، تربیت اور اسلحہ کی فراہمی کے ذریعے دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور عالمی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان سرزمین پر 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔
اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کرسٹینا مارکوس لاسن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے تربیتی مراکز، ان کی منصوبہ بندی اور ہر قسم کی معاونت کو فوری طور پر ختم کرے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں چین کے مندوب فو کونگ نے بھی کہا ہے کہ افغانستان میں داعش اور فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔