ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے پر اتفاق
ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے مرحلہ وار لائحہ عمل پر بات چیت کی ہے۔ مجوزہ فریم ورک میں عارضی مشترکہ بحری راستہ قائم کرنے اور آبنائے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنا شامل ہے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے منگل کو تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ دوطرفہ اور علاقائی امور پر مذاکرات کیے۔
اومانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے ایران کا ورکنگ دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر سید عباس عراقچی کے ساتھ تعمیری مشاورت کی۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے واضح کیا کہ کسی بھی انتظام میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور خودمختار حقوق کا احترام ضروری ہے۔
ایران اور عمان کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال حالیہ جنگ اور اس کے تباہ کن نتائج کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس صورت حال کے پیش نظر مرحلہ وار فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا، جسے آگے بڑھنے کے لیے عملی اور قابل عمل بنیاد قرار دیا گیا۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت آبنائے ہرمز میں عارضی مشترکہ بحری راستہ قائم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے میں موجود بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبہ شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔ ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں مستقل بحری راستے اور مستقبل میں آبنائے کے انتظام سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تکنیکی مذاکرات میں معلومات کے تبادلے، بحری ٹریفک کے انتظام اور متعلقہ بحری و سیکیورٹی خدمات کی فراہمی کے لیے طریقہ کار وضع کرنے پر بھی بات کی جائے گی۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق ایران اور عمان نے خلیج کے پانیوں سے متصل علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ مذاکرات کے انعقاد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قابل اطلاق بین الاقوامی قوانین کی پابندی اور ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق کا احترام ضروری ہوگا۔
اعلامیے میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون اور سیاسی مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔ عمان کے وزیر خارجہ کا ایران کا دورہ اسی مقصد کے تحت ہوا، جبکہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کی حیثیت سے خطے میں امن و سلامتی کے لیے تعاون کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔