صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تمام سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی جہاز یا کشتی نے دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو اسے فوری طور پر تباہ کردیا جائے گا۔

منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی جہاز یا کشتی نے دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو اسے فوری اور منظم طریقے سے تباہ کردیا جائے گا۔


صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اسپیس فورس آبنائے ہرمز کے ایک ایک حصے کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نگرانی ’پک ایکس ماؤنٹین‘ اور ایران کے دیگر 3 جوہری مقامات پر بھی جاری ہے، جن کے بارے میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہیں پہلے ہی تباہ کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے معاملے پر ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی نافذ ہونے کا بھی اعلان کیا۔

امریکی صدر اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں اور گزشتہ ہفتے بھی انہوں نے ایسے ہی دعوے کیے تھے۔

صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی پیش رفت کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ پک ایکس ماؤنٹین پر مجوزہ امریکی حملے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایک انتہائی گہرائی میں قائم جوہری تنصیب ہے، جس کے بارے میں اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران نے وہاں افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور جدید سینٹری فیوجز کا ایک حصہ رکھا ہوا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اسے انتہائی اہم آبی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔

ایران اپنی فوج کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کررہا: صدر ٹرمپ

اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ناکام‘ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد کو تنخواہوں کی ادائیگیاں نہیں کر رہا اور اس دوران ایران مظاہرین کو بھی قتل کررہا ہے۔


صدرٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں مظاہرین کے علاوہ ایسے افراد کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے جو احتجاج نہیں کر رہے اور یہ صورت حال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

امریکی صدر نے ایران کی صورت حال کو ’انتہائی سنگین انسانی بحران‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے تاہم انہوں نے اپنے دعوؤں کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ کی مہم مزید تیز کردی ہے۔

امریکا نے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کیا ہے، جسے ٹرمپ نے ایران کے خلاف ’اقتصادی ڈی ڈے‘ قرار دیا ہے، یہ اقدامات ایران کے ساتھ تقریباً چھ ماہ سے جاری فوجی تنازع کے دوران کیے جا رہے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو ان ممالک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی جو ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات ختم کرنے سے انکار کریں گے تاہم اسکاٹ بیسنٹ نے فوری طور پر کسی بڑی نئی پابندی کا اعلان نہیں کیا۔

ایران میں جنوری 2026 میں ہونے والی بغاوت کے دوران شدید تشدد کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جب کہ حکومت کے ناقدین اور مخالفین کو درپیش خطرات سے متعلق رپورٹس بھی جاری ہوتی رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان میں ایران کی داخلی صورت حال اور حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ان کے بیان میں پیش کیے گئے دعووں کی آزادانہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

Related posts