میر رضا قتل کیس: جبران ناصر کا پولیس پر اہم شواہد چھپانے کا الزام

کراچی میں میر رضا کیس میں مقتول کے اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر نے پولیس پر اہم شواہد چھپانے اور واقعے کو خودکشی قرار دینے کے بیانیے کو برقرار رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جبران ناصر نے کہا ہے کہ جائے وقوعہ سے نو روز بعد ملنے والا گولی کا خول سیکیورٹی کمپنی کے پستول کے دستیاب خولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس نے یہ اہم حقیقت 10 اگست سے چھپا رکھی ہے تاکہ میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کا بیانیہ برقرار رکھا جاسکے۔

جبران ناصر کے مطابق میر رضا نے وافلکس سے جو پستول نکالا تھا، وہ سیکیورٹی کمپنی کا پستول تھا، تاہم جائے وقوعہ سے نو روز بعد ملنے والا گولی کا خول پولیس کے ریکارڈ میں موجود سیکیورٹی کمپنی کے پستول کے خالی خولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گولی کا خول جائے وقوعہ سے گلستانِ جوہر تھانے کے ایس ایچ او کے بیان کے مطابق کم از کم چار مختلف ایس ایچ اوز کی موجودگی میں برآمد ہوا تھا۔ جبران ناصر نے کہا کہ یہ بات عدالتی کمیشن کے سامنے ایس ایچ او گلِستانِ جوہر کے بیان میں بھی سامنے آئی ہے۔

جبران ناصر نے مزید کہا کہ میر رضا کے اہلِ خانہ پہلے روز ہی سے پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ میں ردوبدل کے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق سندھ حکومت اب بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی مخالفت کر رہی ہے اور معاملے میں پولیس پر اعتماد کرنے پر زور دے رہی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت کے مؤقف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’شرم ناک‘ قرار دیا اور کہا کہ جب خاندان کی جانب سے پہلے دن سے شواہد اور جائے وقوعہ سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہوں تو پولیس کی تفتیش پر ہی انحصار کیوں کیا جا رہا ہے۔

نوجوان تاجر کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی پیر کو ہونے والی سماعت میں پولیس کی جانب سے مکمل ریکارڈ اور بیانات پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ بظاہر اسے گمراہ کرنے کے لیے مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، جب کہ پولیس کو تمام بیانات اور متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سماعت کے دوران ایس ایچ او گلستانِ جوہر کامران قریشی نے بتایا کہ میر رضا کی لاش ملنے کے بعد جائے وقوعہ سے پستول کا خول برآمد ہوا، تاہم کمیشن نے کرائم سین محفوظ رکھنے، شواہد کی برآمدگی اور پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ پر کیے گئے اقدامات سے متعلق بھی سخت سوالات کیے۔

کمیشن میں یہ معاملہ بھی زیرِ بحث آیا کہ گولی کا خول 6 اگست کو، یعنی لاش ملنے کے کئی روز بعد برآمد ہوا، جب کہ اس کی برآمدگی کے وقت متعدد ایس ایچ اوز موقع پر موجود تھے۔

دوسری جانب میر رضا کے مبینہ قتل کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پولیس نے عبوری چالان جمع کرا دیا ہے۔ تفتیشی افسر نے حتمی چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے 21 ستمبر تک حتمی چالان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

عبوری چالان کے مطابق میر رضا کی ایپل واچ، موبائل فون اور دیگر آلات کی فرانزک رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں، جب کہ چالان میں کسی شخص کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔

پولیس کے مطابق میر رضا کی گمشدگی کی اطلاع سب سے پہلے ان کی منگیتر نے دی تھی۔ 28 جولائی کی رات تقریباً 3 بجے منگیتر نے دیکھا کہ میر رضا کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ تھے۔

انہوں نے میر رضا کو کالز بھی کیں، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد انہوں نے مقتول کے دوستوں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

Related posts