تہران نے نہ تو میدانِ جنگ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا: ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران نے نہ تو میدانِ جنگ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے جب کہ سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں۔

پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی اولین ترجیح قومی سلامتی اور ایرانی عوام کے امن و سکون کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قوم کے حقوق کا بھرپور انداز میں دفاع کرے گا اور کسی بھی خطرے کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

صدر پزشکیان کے مطابق سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو اہم اور بنیادی ستون ہیں اور ایران نے نہ تو میدانِ جنگ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جو اپریل کی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔

اسی دوران ایران نے اتوار کی رات اور پیر کی صبح مقبوضہ علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے اور اسرائیل پر جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ اسلامی جمہوریہ کے قومی مفادات اور وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قومی اتحاد اور دانشمندی پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران موجودہ چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نکل آئے گا۔

Related posts