بیلوگن ریڈ کارڈ تنازع: ناروے کا فیفا کے خلاف شکایت درج کرانے کا اعلان
ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے امریکی فارورڈ کھلاڑی فولارن بیلوگن کی ورلڈ کپ معطلی ختم کیے جانے کے معاملے پر فیفا کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ناروے کی فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے کھیل کے بنیادی اصولوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعرات کو ناروے فٹبال فیڈریشن (این ایف ایف) کی صدر لیزے کلاوینیس نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس معاملے کو فیڈریشن کے بورڈ کے اجلاس میں پیش کریں گی اور منظوری کے بعد فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کی جائے گی۔
لیزے کلاوینیس نے کہا کہ بیلوگن کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ ایسا معاملہ ہے جو ”ہونا ہی نہیں چاہیے تھا“ اور اسے اخلاقی ضابطوں کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اس سے قبل ناروے فٹبال فیڈریشن فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیفا کے پہلے ”امن انعام“ دیے جانے کے معاملے پر بھی شکایت درج کرا چکی ہے۔
تنازع اس وقت پیدا ہوا جب فولارن بیلوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں ریڈ کارڈ ملنے کے باعث بیلجیئم کے خلاف اگلے میچ کے لیے خود کار طور پر معطل کردیا گیا تھا تاہم بعد میں فیفا نے ان کی معطلی ختم کر دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے پر شدید تنقید اس وقت سامنے آئی جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے اس معاملے میں مداخلت کی تھی۔
لیزے کلاوینیس نے کہا کہ اگر اس طرح قوانین میں نرمی کی جائے گی تو یہ ایک خطرناک روایت بن جائے گی، جس سے پورا کھیل متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق کھیل کے بنیادی قوانین پر سمجھوتہ تشویشناک ہے اور اس معاملے پر شفاف انداز میں وضاحت ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس فیصلے پر بیرونی دباؤ اثرانداز ہوا اور مناسب طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیفا کی قیادت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ فیصلہ ایک غلطی تھا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق معطلی ختم کرنے کا فیصلہ فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین محمد الکمالی نے اکیلے کیا اور کمیٹی کے دیگر ارکان سے مشاورت نہیں کی گئی۔
لیزے کلاوینیس نے کہا کہ متنازع فیصلوں میں اجتماعی مشاورت ضروری ہوتی ہے، خاص طور پر جب بیرونی دباؤ موجود ہو اور اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ کوچز، کھلاڑیوں اور شائقین کی بڑی تعداد نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنے کی تجویز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ توسیع ہی ایک بڑی تبدیلی تھی اور مزید اضافہ فٹبال کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ کے شیڈول کو ملکی لیگز اور علاقائی کنفیڈریشنز کے نظام کو مزید متاثر نہیں کرنا چاہیے۔