غیر ملکی خواتین اغوا کیس: میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون سے زیادتی ثابت

لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں ایک خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب وینزویلا سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیا گیا بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے تمام الزامات کی تصدیق کی ہے۔

لاہور کے ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں دو غیر ملکی خواتین کی جانب سے مبینہ اغوا، اجتماعی زیادتی اور تاوان طلبی کے مقدمے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کو موصول ہونے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ گرفتار کیے گئے چار ملزمان میں سے تین افراد پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ اس کیس میں نامزد مرکزی ملزم رضا ڈار نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے نواسے ہیں۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین اور ملزمان کے ڈی این اے نمونے اور ملزمان کے موبائل فون بھی فرانزک تجزیے کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں تفتیش کو فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کی روشنی میں آگے بڑھایا جائے گا۔

اس کیس میں انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان اور متاثرہ خواتین کے درمیان کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری بھی موجود تھی، جس کی مالیت چار سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رضا ڈار اور ساتھی متاثرہ خواتین سے منافع کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر متاثرہ خواتین کے ڈیجیٹل والٹ سے تقریباً 19 ہزار امریکی ڈالر اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرائے۔

متاثرہ غیر ملکی خواتین میں سے ایک خاتون کا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ بیانِ حلفی بھی سامنے آگیا ہے۔

وینزویلا سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے بیان میں کہا کہ وہ دوسری متاثرہ خاتون اسٹیفنی ایڈریانا کے لگائے گئے تمام الزامات کی تصدیق کرتی ہیں۔

متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے پاکستان آمد کے بعد انہیں ایک گھر میں رکھا گیا، جہاں پہلی رات مسلح افراد نے انہیں باندھ دیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور کمپیوٹر، پاس ورڈز اور رقم کے بارے میں معلومات طلب کرتے رہے۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور بعد ازاں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

Related posts