سانحہ گل پلازہ: پولیس کا تیسری بار نامکمل چالان عدالت میں جمع، 6 ملزمان نامزد
سانحہ گل پلازہ سے متاثرہ افراد کے لیے انصاف کی امید ایک بار پھر دھندلا گئی ہے، کیونکہ پولیس نے پراسیکیوشن کے اعتراضات دور کیے بغیر کیس کا چالان تیسری مرتبہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا۔
ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن کی جانب سے پہلے بھی چالان میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود پولیس نے اہم اعتراضات دور کیے بغیر دوبارہ چالان پیش کر دیا۔
حیران کن طور پر اس بار بھی چالان کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کی اہم رپورٹ شامل نہیں کی گئی، جسے کیس کی تفتیش کے لیے نہایت اہم دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پولیس کے جمع کرائے گئے چالان میں سانحے کی ابتدائی وجوہات سے متعلق دل دہلا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
چالان کے مطابق آگ دکان نمبر 192 میں اس وقت لگی جب ایک 11 سالہ بچہ ماچس سے کھیل رہا تھا، جس کے باعث آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
چالان میں شامل کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کے مطابق متعلقہ دکاندار نعمت اللہ وقوعے کے وقت دکان پر موجود نہیں تھا، جبکہ مارکیٹ یونین کے عہدیداروں کی مبینہ غفلت بھی سانحے کی شدت میں اضافے کا سبب بنی۔
پولیس کے مطابق یونین کے کسی بھی ذمہ دار نے بروقت ایمرجنسی ہیلپ لائن پر اطلاع نہیں دی، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی اور آگ نے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تحقیقات کے مطابق اس المناک واقعے میں مجموعی طور پر ایک ہزار ایک سو ترپن دکانیں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں، جس سے کروڑوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو گیا اور متعدد کاروباری افراد شدید مالی نقصان سے دوچار ہوئے۔
پولیس نے مقدمے میں مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، سیکریٹری محمد امین، دیگر یونین عہدیداروں، دکاندار نعمت اللہ اور اس کے بیٹے کو نامزد کیا ہے۔
فارنزک رپورٹ میں کسی بھی قسم کے آتش گیر یا دھماکہ خیز مواد کے شواہد نہیں ملے۔ رپورٹ کے مطابق واقعہ کسی سازش یا دھماکے کا نتیجہ نہیں بلکہ مبینہ غفلت کے باعث پیش آنے والا ایک افسوسناک سانحہ تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پراسیکیوشن نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان مسترد کردیا گیا تھا، تفتیش کو ناقص، پراسیکیوشن کی جانب سے پولیس چلان کو نامکمل اور غیر تسلی بخش قرار دیا گیا تھا۔
پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ پولیس نے عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا اور چالان میں متعدد اہم قانونی اور تفتیشی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔