ایران پر امریکی حملے تھم گئے، خلیجی ممالک آپس میں لڑ پڑے
ایران اور امریکا کے درمیان تیرہ روز تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اگرچہ امریکی کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور مذاکرات کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ خطے میں سعودی اتحاد، یمنی حوثیوں، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں میں تیرہ دن بعد وقفہ آیا ہے، تاہم اسی دوران یمن، سعودی عرب، ایران، کویت اور بحرین سمیت مختلف ممالک میں فوجی کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں۔
سعودی اتحادی افواج نے یمن کے علاقے الحدیدہ گورنریٹ میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ یمن کی تمام بندرگاہیں جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں اور حالیہ کارروائی کا مقصد صرف حوثیوں کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ اتحادی افواج نے خبردار کیا کہ اگر حوثی باغیوں کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے علاقے جازان پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق نہیں کی گئی۔
ادھر خلیج عمان میں ایک ایل پی جی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فورسز نے مبینہ طور پر اس جہاز کو ایرانی گیس لے جانے والا ٹینکر سمجھ کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عملے کے دو افراد مارے گئے۔
ایران کی جانب سے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق کویت، بحرین اور عمان میں امریکی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جبکہ اردن کے الازرق ایئر بیس پر کارروائی میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں امریکی جنگی طیاروں اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ تہران کی جانب سے کویت کے العدیری کیمپ میں موجود امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے تین گودام تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے واچ ٹاور کو نشانہ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
تاہم خطے میں کشیدگی کا دائرہ مزید بڑھتا نظر آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ بحرین اور کویت نے خفیہ طور پر ایران کے اندر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔
اخبار کے مطابق رواں ماہ بحرین اور کویت کے جنگی طیاروں نے ایران میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذخیرہ کرنے والے مراکز سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے ان کارروائیوں کے لیے بحرین اور کویت کو ایرانی اہداف سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات بھی ایران کے خلاف متعدد حملوں میں شامل رہا ہے، تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ ممالک کی جانب سے باضابطہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں، لیکن خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث امن کی کوششوں کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو تنازع مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے۔