جماعتِ اسلامی کا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ، ‘دھرنے جاری رہیں گے’

جماعتِ اسلامی نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر سُپر لانگ مارچ کو عارضی بریک لگا دی ہے، جبکہ وزیراعظم سے ملاقات تک احتجاجی دھرنے اور کیمپ جاری رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق، جماعتِ اسلامی نے وزیر اعظم کی درخواست پر لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم کی قیادت میں کراچی سے نکلنے والے مارچ نے ملتان میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔

ملتان پہنچنے پر حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کے حقوق اور مہنگائی کے خلاف احتجاج اور لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، تاہم وزیراعظم کی جانب سے دھرنا مؤخر کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگی اور حکومت سے تحریری یقین دہانی حاصل کی جائے گی۔ ان کے مطابق محض ٹال مٹول کی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم نے لانگ مارچ مؤخر کرنے پر مشاورت کا کہا ہے۔ وزیراعظم کی نیویارک سے واپسی پر جماعتِ اسلامی کا وفد ملاقات کرے گا۔

جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کے پہلے مرحلے میں ملک بھر میں دھرنے دیے تھے، اور دوسرے مرحلے میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ احتجاج کے دوسرے مرحلے میں جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی بڑی تعداد بزریعہ ٹرین ملتان پہنچ چکی ہے، جہاں سے انہیں بزریعہ سڑک اسلام آباد جانا تھا۔

27 ستمبر کو دارالحکومت میں جماعت اسلامی، پاکستان تحریکِ انصاف اور کسان اتحاد کے احتجاج کے پیشِ نظر شہر میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور دارالحکومت میں کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں کنٹینرز لگائے جانے پر کہا تھا کہ ’ہمیں کوئی کنٹینرز نہیں روک سکتے‘۔

انہوں پیٹرولیم لیوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں اور جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف ٹیکس وصول کرکے اپنی نااہلی نہیں چھپائی جاسکتی، جبکہ حکومتی ریلیف پیکیج بھی عوام کے لیے ناکافی ثابت ہوا ہے۔

حافظ نعیم کے مطابق، جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، وہ بلا تفریق عوام کے بنیادی مسائل کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں اور جماعت اسلامی 20 ستمبر سے مارچ کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہے۔ اپنے حق کے لیے 10 ماہ بھی سڑکوں پر بیٹھ سکتے ہیں، اگر صورتحال خراب ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس اکتوبر کا پہلا ہفتہ بھی احتجاج کے لیے موجود ہے۔ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسے بھی آئینی اور جمہوری حق حاصل ہے، جبکہ جماعت اسلامی کسی بھی سیاسی کریک ڈاؤن کی مذمت کرتی ہے۔

وزیراعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے اور جس قدر ممکن ہوا عوام کو ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

Related posts