توانائی تنصیبات بند کرنے کی دھمکی: تربیلا، ورسک ڈیم اور کرک گیس فیلڈ کی اہمیت کیا ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے اہم رہنماؤں کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف قومی سطح کی اہم توانائی تنصیبات کو بند کرنے کے بیانات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی فضل الٰہی اور اقبال آفریدی نے تربیلا ڈیم، ورسک ڈیم سے بجلی کی فراہمی اور ضلع کرک سے حاصل ہونے والی گیس کو معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ان بیانات کو وفاقی ڈھانچے کے خلاف ایک سنگین حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں قومی اثاثوں کو سیاسی مطالبات کے لیے استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے۔
ایم پی اے فضل الٰہی نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ”جتنے بھی ہمارے پاس کارڈ ہیں، اگر ورکر اس پر بیٹھ گئے اور صوبائی حکومت سپورٹ کرے تو ہم جیت جائیں گے۔“
ان کے اس بیان کی فوری تائید کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما اقبال آفریدی نے فضل الٰہی کے موقف کا ساتھ دیا اور کہا کہ ”انشاء اللہ کر کے دکھائیں گے۔“
پی ٹی آئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ خیبر پختونخوا میں موجود ڈیم اور گیس کے ذخائر صوبائی سرحدوں کے اندر واقع ہیں اور انہی کی بنیاد پر وفاق پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
جن تنصیبات کو بند کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، وہ پاکستان کی قومی معیشت اور بجلی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتی ہیں۔
ان تنصیبات میں تربیلا سب سے بڑا اور ہمہ جہت منصوبہ ہے، ورسک ایک پرانا مگر اہم پن بجلی اور آبپاشی منصوبہ ہے، جبکہ کرک خصوصاً نشپہ جیسے گیس اور تیل کے منصوبوں کی وجہ سے پاکستان کے مقامی ہائیڈروکاربن وسائل میں اہم مقام رکھتا ہے۔
ان منصوبوں کی اہمیت صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں بلکہ ان کا تعلق قومی گرڈ، زرعی پیداوار، صنعتی سرگرمی، درآمدی ایندھن کی ضرورت اور وفاقی توانائی نظام سے بھی بنتا ہے۔
تربیلا ڈیم کی اہمیت

تربیلا ڈیم خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ پر قائم پاکستان کے سب سے اہم کثیرالمقاصد آبی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ واپڈا کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا ارتھ فلڈ ڈیم ہے۔
اس ڈیم کی اونچائی دریا کی تہہ سے تقریباً 143 میٹر ہے جبکہ تربیلا جھیل کا رقبہ تقریباً 250 مربع کلومیٹر ہے۔
تربیلا کو صرف ایک بجلی گھر سمجھنا اس منصوبے کی اصل اہمیت کو محدود کر دیتا ہے۔
اس ڈیم کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ یہ پانی کو ذخیرہ کرکے ضرورت کے مطابق نیچے کی طرف چھوڑنے میں مدد دیتا ہے۔
پاکستان چونکہ زرعی ملک ہے اور اس کی بڑی زرعی سرگرمیاں نہری آبپاشی پر منحصر ہیں، اس لیے دریا میں آنے والے پانی کو ذخیرہ کرنا اور پھر فصلوں کی ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ملکی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سادہ الفاظ میں سمجھیں تو تربیلا میں ذخیرہ ہونے والا پانی صرف ڈیم کے اردگرد کے علاقے کے لیے نہیں ہوتا۔ اس کا ایک حصہ نہری نظام کے ذریعے بہت دور تک جاتا ہے، جہاں یہی پانی گندم، چاول، گنے، کپاس اور دوسری فصلوں کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے۔
یوں تربیلا کا پانی بالآخر خوراک، کسان کی آمدنی، آٹے کی قیمت، چینی کی پیداوار اور زرعی صنعت سے بھی جڑ جاتا ہے۔
تربیلا کی دوسری بڑی ذمہ داری بجلی پیدا کرنا ہے۔ 2025 میں واپڈا کے مطابق تربیلا ہائیڈل پاور اسٹیشن نے 14.3 ارب یونٹ جبکہ تربیلا فورتھ ایکسٹینشن نے مزید 5.6 ارب یونٹ بجلی پیدا کی۔
اسی سال واپڈا کے 22 ہائیڈل پاور اسٹیشنز نے مجموعی طور پر 33.12 ارب یونٹ بجلی پیدا کی جو ملک کی مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 30 فیصد تھی۔
تربیلا کی اہمیت مستقبل میں بھی کم نہیں ہو رہی۔ واپڈا کے مطابق تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1530 میگاواٹ ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد تربیلا کمپلیکس کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہو جائے گی۔
اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 1.466 ارب یونٹ اضافی کم لاگت بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید ریٹائرڈ نے 2026 میں تربیلا منصوبے کے جائزے کے دوران منصوبے کے کام کو تیز کرنے اور معیار و حفاظتی تقاضے برقرار رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم اب تک زراعت کے لیے 419 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ ذخیرہ شدہ پانی جاری کر چکا ہے اور قومی گرڈ کو 586 ارب یونٹ صاف اور کم لاگت بجلی فراہم کر چکا ہے۔
ورسک ڈیم کی اہمیت کیا ہے؟

پشاور کے قریب دریائے کابل پر قائم ورسک ڈیم پاکستان کے قدیم اہم آبی و پن بجلی منصوبوں میں شامل ہے۔ واپڈا کے مطابق ورسک ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ پشاور سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے کینیڈا کے تعاون سے کولمبو پلان کے تحت دو مرحلوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 1960-61 کے دوران 40 میگاواٹ کے چار یونٹ لگائے گئے، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید دو یونٹ شامل کیے گئے۔ اس طرح مجموعی نصب شدہ صلاحیت 242.96 میگاواٹ تک پہنچی، تاہم وقت کے ساتھ پیداواری صلاحیت کم ہو کر تقریباً 150 میگاواٹ رہ گئی۔
ورسک کی اہمیت صرف بجلی تک محدود نہیں۔ واپڈا کے مطابق اس کے ذخیرے میں تقریباً 25 ہزار 300 ایکڑ فٹ پانی کی لائیو اسٹوریج گنجائش ہے جو تقریباً 1 لاکھ 19 ہزار ایکڑ اراضی کی آبپاشی میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیم کے اسپِل وے کی ڈیزائن ڈسچارج صلاحیت 5 لاکھ 40 ہزار کیوسک بتائی گئی ہے۔
یعنی پشاور اور اس کے گردونواح کے لیے ورسک کا کردار پانی اور بجلی دونوں حوالوں سے ہے۔ یہ تربیلا جتنا بڑا ذخیرہ نہیں، لیکن اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے اہم بناتی ہے۔ پشاور کے قریب موجود پن بجلی اور آبپاشی کا بنیادی ڈھانچہ مقامی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کرک کی گیس فیلڈ

تربیلا اور ورسک جہاں بنیادی طور پر پانی اور پن بجلی سے جڑے ہیں، وہاں ضلع کرک کی اہمیت پاکستان کے مقامی تیل اور گیس کے وسائل سے بنتی ہے۔
کرک کے نشپہ علاقے میں تیل اور گیس کی سرگرمیاں پاکستان کے ہائیڈروکاربن سیکٹر کا اہم حصہ ہیں۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق نشپہ آئل اینڈ گیس پروسیسنگ اور ایل پی جی ریکوری منصوبے میں روزانہ 18 ہزار 400 بیرل تیل، 98 ملین مکعب فٹ گیس، 370 میٹرک ٹن ایل پی جی اور 1,100 بیرل این جی ایل پیدا کرنے کی ڈیزائن صلاحیت موجود تھی۔
او جی ڈی سی ایل نے اس منصوبے کو توانائی کی فراہمی میں براہ راست مثبت اثر رکھنے والا منصوبہ قرار دیا تھا۔
یہاں عام آدمی کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مقامی گیس آخر اہم کیوں ہے؟
پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی ذرائع کے ساتھ ساتھ درآمدی تیل، گیس اور دیگر ایندھن پر بھی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جب ملک کے اندر کسی علاقے سے گیس یا تیل نکلتا ہے تو اس سے درآمدی ایندھن کی ضرورت میں کچھ کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک فیلڈ پورے ملک کی درآمدی ضرورت ختم کر دیتی ہے، لیکن مقامی پیداوار مجموعی توانائی کے مکس میں اہم حصہ ڈال سکتی ہے۔
کرک کے نشپہ منصوبے میں پیدا ہونے والی گیس کو گیس کے قومی نظام تک پہنچایا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ گیس صرف گھروں کے چولہے تک محدود نہیں ہوتی۔ قدرتی گیس بجلی گھروں، کھاد بنانے والی صنعت، صنعتی یونٹس اور مختلف کاروباری سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اسی لیے مقامی گیس کی پیداوار کا تعلق براہ راست صنعت اور بجلی کے نظام سے بھی بن جاتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے مطابق ضلع کرک میں نشپہ کمپریشن منصوبہ گرتی ہوئی پیداوار اور دباؤ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس منصوبے میں کمپریسر ٹرینز کی تنصیب کے نتیجے میں اضافی سیلز گیس کے ساتھ تیل، این جی ایل اور ایل پی جی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا۔
وفاق کے لیے یہ تینوں منصوبے کیوں اہم ہیں؟

اگر تربیلا، ورسک اور کرک کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ان تینوں کی نوعیت مختلف ہونے کے باوجود ایک مشترکہ تصویر سامنے آتی ہے۔
تربیلا پانی ذخیرہ کرتا ہے، آبپاشی میں مدد دیتا ہے اور بڑے پیمانے پر پن بجلی پیدا کرتا ہے۔
ورسک دریائے کابل کے پانی کو استعمال کرتے ہوئے پشاور کے قریب آبپاشی اور پن بجلی کا نظام فراہم کرتا ہے۔
کرک کے تیل و گیس کے منصوبے زمین کے اندر موجود ہائیڈروکاربن وسائل کو نکال کر قومی توانائی کے نظام میں شامل کرتے ہیں۔
یہاں وفاق اور خیبر پختونخوا کے تعلق کا سوال بھی اہم ہوجاتا ہے۔
چونکہ تینوں اہم تنصیبات خیبر پختونخوا میں واقع ہیں، اس لیے ان کی سیکیورٹی، زمین، مقامی آبادی، روزگار، رائلٹی، پانی کے استعمال اور صوبائی حقوق سے متعلق معاملات میں صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کے مفادات بھی شامل ہوتے ہیں۔
دوسری طرف بجلی، قومی گرڈ، بین الصوبائی پانی کی تقسیم اور قومی توانائی پالیسی ایسے معاملات ہیں جن کا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔
اسی لیے ان منصوبوں کو صرف وفاقی یا صرف صوبائی اثاثہ سمجھنے کے بجائے ایک ایسے قومی نظام کے طور پر دیکھنا زیادہ جامع ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
تربیلا کی مثال اس تعلق کو سب سے واضح کرتی ہے۔ ڈیم خیبر پختونخوا میں ہے، لیکن اس سے ذخیرہ ہونے والا پانی اور پیدا ہونے والی بجلی ملک کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ واپڈا کے مطابق تربیلا کے ذخیرے سے چاروں صوبوں کی تقریباً 22 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو پانی ملتا ہے۔
اسی طرح قومی گرڈ میں شامل ہونے والی تربیلا اور ورسک کی بجلی کسی ایک ضلع تک محدود نہیں رہتی بلکہ قومی بجلی کے نظام کا حصہ بنتی ہے۔
کرک کی گیس میں بھی یہی اصول نظر آتا ہے۔ گیس پیدا کرنے والا علاقہ خیبر پختونخوا میں ہے، لیکن پروسیس شدہ گیس قومی پائپ لائن نظام میں شامل ہو سکتی ہے اور اس کا استعمال صوبے سے باہر بھی ہوسکتا ہے۔