اقوام متحدہ اجلاس کا آغاز: سفارت کار بدامنی اور شدید غیر یقینی میں گھری دنیا سے پریشان
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے آغاز پر نیویارک میں جمع ہونے والے دنیا بھر کے سربراہان مملکت، وزرا اور سفارت کاروں نے عالمی صورتحال کو شدید بحران اور غیر یقینی سے تعبیر کیا ہے۔
یورپ اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں، معاشی عدم استحکام اور بدلتے ہوئے عالمی نظام نے بین الاقوامی منظرنامے کو پچھلے سال کی نسبت مزید پیچیدہ اور سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
اس موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی رہنما اقوام متحدہ میں شدید غیر یقینی کے دور میں اکٹھے ہو رہے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور دنیا تبدیل ہو رہی ہے، لہٰذا ہمارے اداروں کو بھی اس کے ساتھ بدلنا ہو گا۔
پچھلے نو مہینوں کے دوران کئی ایسے اہم واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو عہدے سے ہٹانے کا امریکی آپریشن، ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے شامل ہیں، جس کے بعد علاقائی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اہم سمندری گزرگاہیں متاثر ہوئی ہیں۔
دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے جاری جنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور سفارتی کوششیں تاحال ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
علاوہ ازیں کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کی وبا اور نیپال، تبت، وینزویلا اور کولمبیا میں قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا بھر میں انسانوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عالمی سفارت کاروں اور سابق حکام نے اقوام متحدہ کی ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، متعدد سابق اور موجودہ وزرا اور سفیروں نے اپنے تاثرات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
اقوام متحدہ میں خدمات انجام دینے والے سابق امریکی سفیر رابرٹ ووڈ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ”یہ دیکھنے کا ایک انتہائی اہم وقت ہے کہ آیا ان میں سے کچھ مسائل کو سفارتی راستے سے حل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔“
رابرٹ ووڈ نے مزید کہا کہ ”اقوام متحدہ واقعی ایک حساس موڑ پر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، حالات گزشتہ سال بھی خراب تھے اور اس سال بھی ان میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔“
سلووینیا کے وزیر خارجہ ٹون کائزر نے عالمی تعلقات کی بدلتی ہوئی نوعیت اور امن کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں ہر چیز تبدیل ہو رہی ہے، دوستیاں بدل رہی ہیں اور اتحاد بدل رہے ہیں۔
ٹون کائزر نے مزید کہا کہ ”جو چیز مستقل رہتی ہے وہ مفادات ہیں اور ان مفادات کو اس طرح ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ہم مستقل تصادم کے بجائے امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔“
نیویارک میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے دوران دنیا بھر کے رہنما نہ صرف جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے خطاب کریں گے بلکہ سائیڈ لائنز پر حریف اور اتحادی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے سمندری سیکیورٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس جیسے ابھرتے ہوئے مسائل پر بات چیت بھی کریں گے۔