امریکا کا گرین لینڈ میں دو نئے فوجی اڈے قائم کرنے کا پلان

امریکا نے گرین لینڈ میں مزید دو فوجی اڈے قائم کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے، جن میں سے ایک سرد جنگ کے دور کے سابق امریکی اڈے کو دوبارہ فعال کرے گا جبکہ دوسرا ڈنمارک کی خصوصی فورسز کے زیر استعمال علاقے میں قائم کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے واقف تین افراد نے بتایا ہے کہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک نئے معاہدے پر منگل کو دستخط متوقع ہیں، جس کے تحت جنوبی اور مشرقی گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھائی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی گرین لینڈ میں نارسارسواک کے مقام پر امریکی فوجی اڈہ دوبارہ قائم کیا جائے گا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں امریکا نے سرد جنگ کے زمانے میں ’بلوئی ویسٹ ون‘ نامی فوجی اڈہ قائم کر رکھا تھا، تاہم امریکا نے اسے 1950 کی دہائی میں بند کردیا تھا۔ اڈہ بند ہونے کے بعد علاقے کی آبادی بھی کم ہوکر چند درجن افراد تک رہ گئی ہے۔

دوسرا فوجی مرکز مشرقی گرین لینڈ کے علاقے میسٹرسوِگ میں قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ علاقہ اس وقت ڈنمارک کی خصوصی فورسز کے ایک یونٹ ’سائریئس ڈاگ سلیڈ پٹرول‘ کے زیر استعمال ہے، جو برفانی علاقوں میں کتوں کی مدد سے گشت کرتا ہے۔

امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان معاہدے پر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منگل کو صبح ساڑھے 10 بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔

تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ معاملے سے واقف تینوں افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات دستخط ہونے تک طے کی جاسکتی ہیں۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے رائٹرز کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی معاہدے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم پہلے دیے گئے بیان کو دہرایا کہ منگل کو ہونے والا معاہدہ ’گرین لینڈ اور امریکا کی سلامتی کو محفوظ اور مضبوط بنائے گا‘۔

ڈنمارک کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے کے ذریعے آرکٹک خطے کی سکیورٹی کو شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے دائرہ کار میں رکھا جائے گا، بجائے اس کے کہ یہ معاملہ صرف امریکا اور ڈنمارک تک محدود رہے۔

گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ماہ سے گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔

ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں دیکھنا چاہتے ہیں اور ماضی میں جزیرے کے حصول کے لیے فوجی یا اقتصادی طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا تھا۔

تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق گرین لینڈ کے لوگوں کی بڑی اکثریت نے امریکا کا حصہ بننے کی تجویز کو مسترد کیا ہے۔

Related posts