حوثیوں کا یمن کے بالائی علاقوں پر قبضے کے لیے بڑی پیش قدمی کا فیصلہ

یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے زیر قبضہ علاقوں کو بحیرہ احمر کے ساحل سے کاٹنے کے لیے اہم پہاڑی مقامات پر قبضے کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کے بعد امریکی فضائی حملے آخری وقت میں منسوخ کردیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کی تیاری کرلی تھی اور فوجی طیاروں میں بم بھی لوڈ کیے جا رہے تھے، تاہم صدر ٹرمپ نے آخری وقت میں حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔

رائٹرز کے مطابق وہ اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوالات وائٹ ہاؤس کی جانب بھیج دیے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

یمن کی سعودی حمایت یافتہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے صدر رشید العلیمی نے بھی اتوار کو صدر ٹرمپ سے فون پر بات کرکے امریکی فوجی مدد طلب کی۔ رائٹرز سے بات کرنے والے چار ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ ان ذرائع میں ایک یمنی اور ایک مغربی عہدیدار بھی شامل تھے۔

دوسری جانب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔ ہفتے کو سعودی دارالحکومت ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور ایئرپورٹ کے قریب دھواں بھی دیکھا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریاض پر میزائل داغے، تاہم سعودی حکام نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

حوثیوں نے 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ رواں ماہ گروپ نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بھی تیزی سے پیش قدمی کی، جس کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کو کئی مقامات سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

حوثیوں کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ چند روز کے دوران پہاڑی علاقوں میں ان کے ٹھکانوں پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں تقریباً 700 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ یمن کے اندر تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 ہزار سے زیادہ یمنی بحیرہ احمر عبور کرکے کشتیوں کے ذریعے افریقہ پہنچے ہیں۔

یمنی فوج کے پانچ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حوثی اب طائز اور لحج صوبوں میں واقع کہبوب پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پہاڑ بحیرہ احمر کے ساحل کو حکومت کے زیر قبضہ جنوبی علاقوں سے الگ کرنے والے اہم مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق طائز کے دور دراز پہاڑی ضلع الوذعیہ کے اطراف اور بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع باب المندب آبنائے اور حکومت کے مرکز عدن کے درمیان راس العرہ کے علاقے میں لڑائی جاری ہے۔

یمنی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار محمد القاضی نے کہا کہ حکومتی فورسز باب المندب کا علاقہ کھونے کے بعد زیادہ تر دفاعی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہیں، جبکہ حوثی شدید فضائی حملوں کے باوجود اپنی پیش قدمی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑ اس بات کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کہ حوثی اپنی حالیہ علاقائی کامیابیوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا حکومتی فورسز ان مقامات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں جہاں سے وہ دوبارہ کارروائی شروع کرسکتی ہیں۔

Related posts