آسٹریلیا کی ہنر مند ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی: دس سے زائد کیٹیگریز کے قوانین تبدیل

آسٹریلیا نے ہنرمند ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال کا طریقہ تبدیل کر دیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت کچھ شعبوں سے وابستہ درخواستوں کو دوسری درخواستوں کے مقابلے میں پہلے دیکھا جائے گا۔ یہ تبدیلی 19 ستمبر 2026 سے نافذ ہو گئی ہے اور اس کا اطلاق نئی درخواستوں کے ساتھ پہلے سے جمع کرائی گئی زیرِ التوا درخواستوں پر بھی ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ نئے قواعد سے ویزا حاصل کرنے کی اہلیت تبدیل نہیں ہوئی۔ صرف درخواستوں کو پروسیس کرنے کی ترجیحی ترتیب بدلی گئی ہے۔ اب درخواست کس شعبے سے متعلق ہے، درخواست دیتے وقت امیدوار کہاں موجود تھا اور بعض عارضی ویزوں کے لیے ویزا کا کون سا سلسلہ منتخب کیا گیا تھا، ان عوامل کی بنیاد پر درخواست کو ترجیح دی جائے گی۔

عارضی ہنرمند ویزوں کے لیے تعمیرات، صحت، تدریس، زراعت، آبی زراعت، ماہی گیری اور وسائل سے متعلق شعبوں کی درخواستوں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ آسٹریلیا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دفاعی مفادات سے متعلق درخواستیں بھی اسی ترجیحی گروپ میں شامل ہیں۔

اس کے بعد اسکلز اِن ڈیمانڈ ویزا، سب کلاس 482 کے اسپیشلسٹ اسکلز اسٹریم کی درخواستوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے بعد درخواست جمع کراتے وقت امیدوار کی جگہ دیکھی جائے گی۔ جو افراد درخواست دیتے وقت آسٹریلیا میں موجود تھے، ان کی درخواستیں ان افراد سے پہلے پروسیس کی جائیں گی جو درخواست کے وقت آسٹریلیا سے باہر تھے۔

بیرون ملک موجود امیدواروں کے لیے ایک اضافی شرط بھی ہے۔ اس ترجیحی گروپ میں شامل ہونے کے لیے ان کی درخواست کسی دوسرے شخص کی درخواست کے ساتھ کسی بھی مرحلے پر مشترکہ طور پر جمع نہیں ہونی چاہیے۔ ان تمام گروپس کے بعد باقی درخواستوں پر کارروائی کی جائے گی۔

یہ ترجیحی نظام اسکلز اِن ڈیمانڈ سب کلاس 482 ویزا پر لاگو ہوتا ہے۔ اس میں سابقہ ٹمپرری اسکل شارٹیج سب کلاس 482 ویزا کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جسے 7 دسمبر 2024 کو اسکلز اِن ڈیمانڈ ویزا سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

مستقل ہنرمند ویزا درخواستوں کے لیے بھی اسی طرح کی ترجیحی ترتیب مقرر کی گئی ہے۔ تعمیرات، صحت، تدریس، زراعت، آبی زراعت، ماہی گیری اور وسائل سے متعلق درخواستوں کے ساتھ آسٹریلیا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دفاعی مفادات سے متعلق درخواستوں کو پہلے پروسیس کیا جائے گا۔

اس کے بعد آسٹریلیا میں موجود ہوتے ہوئے جمع کرائی گئی درخواستوں کو دیکھا جائے گا، جبکہ اس کے بعد ان درخواستوں کی باری آئے گی جن کے مرکزی درخواست گزار درخواست جمع کراتے وقت آسٹریلیا سے باہر تھے۔ بیرون ملک موجود درخواست گزاروں کے لیے بھی شرط ہے کہ ان کی درخواست کسی دوسرے شخص کی درخواست کے ساتھ مشترکہ نہ کی گئی ہو۔ باقی تمام درخواستیں اس کے بعد پروسیس کی جائیں گی۔

نئے قواعد 19 ستمبر سے نافذ ہوئے ہیں، لیکن ان کا اطلاق صرف نئی درخواستوں پر نہیں ہوگا۔ پہلے سے جمع کرائی گئی اور زیرِ التوا درخواستیں بھی نئی ترجیحی ترتیب کے تحت پروسیس کی جائیں گی۔

تاہم درخواست کسی ترجیحی گروپ میں شامل ہونے کے باوجود اس بات کی ضمانت نہیں کہ ویزا فوراً منظور ہو جائے گا۔ پروسیسنگ کا وقت اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ درخواست کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات موجود ہیں یا نہیں، درخواست گزار اضافی معلومات کی درخواست کا کتنی جلدی جواب دیتا ہے، صحت اور کردار کی جانچ میں کتنا وقت لگتا ہے، قومی سلامتی کی جانچ، درخواست کی پیچیدگی اور اس وقت کتنی درخواستیں زیرِ کارروائی ہیں۔

مستقل ویزوں کے معاملے میں دستیاب امیگریشن پروگرام کی نشستیں بھی پروسیسنگ کے وقت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس طرح آسٹریلیا کی نئی پالیسی کا بنیادی مقصد درخواستوں کی اہلیت تبدیل کرنا نہیں بلکہ مختلف شعبوں اور حالات کی بنیاد پر ان کی پروسیسنگ کی ترجیح طے کرنا ہے۔

Related posts