ملک میں پانی کا بحران، زیرِ زمین ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے لگے
ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے ہیں، جس کے باعث صاف پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ شدید گرمی اور بڑھتی ہوئی طلب نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جبکہ مختلف شہروں میں شہری کہیں ٹینکر مافیا، کہیں غیر مستقل فراہمی اور کہیں واٹر فلٹر پلانٹس پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گرنے سے مستقبل میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی کی سطح تقریباً 400 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث شہریوں کو صاف پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں پانی کی قلت کے باعث لوگ ٹینکر مافیا پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے انہیں اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
کراچی میں بھی پانی کا بحران بدستور برقرار ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی مستقل نہیں، جس کے باعث لاکھوں شہری ٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ٹینکرز کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
لاہور میں اگرچہ پانی کی فراہمی پائپ لائنوں کے ذریعے کی جاتی ہے، تاہم متعدد علاقوں میں گھروں تک صاف پینے کا پانی نہیں پہنچ رہا۔ شہری پینے کے لیے واٹر فلٹر پلانٹس سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں۔
پشاور میں بھی زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پانی کی سطح اوسطاً ساڑھے چھ میٹر نیچے جا چکی ہے، جس پر ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
بلوچستان میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں 11 اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پانی کا ٹینکر 5 سے 6 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ واسا شہر کو مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو نہ پایا گیا اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ملک کو پانی کے مزید بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔