بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی بدترین کارکردگی؛ گمبھیر اور اگرکر کو الزام کیوں دیا جارہا ہے؟
بھارت کے تیسرے ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے کے صرف دو ماہ بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے سوریا کمار یادو کو ٹی20 انٹرنیشنل ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ شریاس آئیر کو نیا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ شریاس آئیر گزشتہ دو سیزن میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں شاندار کارکردگی دکھا چکے تھے اور مسلسل رنز بنانے والے بلے بازوں میں شامل تھے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جب شریاس آئیر کو کپتانی کی خبر ملی تو وہ حیران نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے ہی اندازہ تھا، میں اس کی توقع کر رہا تھا۔
یہ بیان اس لیے بھی غیر معمولی سمجھا گیا کیونکہ شریاس آئیر دسمبر 2023 کے بعد سے ایک بھی ٹی20 انٹرنیشنل میچ نہیں کھیل سکے تھے۔ تاہم ان کی خود اعتمادی ہمیشہ ان کی پہچان رہی ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ اور آئی پی ایل میں ان کی کارکردگی انہیں دوبارہ بھارتی ٹی20 ٹیم میں جگہ دلانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی تھی، جبکہ ان کی حکمت عملی اور قیادت کی صلاحیتوں کو بھی کوچز اور ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے سراہا جاتا رہا ہے۔
اگرچہ ان کی ٹیم میں واپسی پر زیادہ سوالات نہیں اٹھے، لیکن ورلڈ چیمپئن ٹیم کی کپتانی سونپنا ایک بڑا فیصلہ تھا۔ شریاس آئیر کو ایسی ٹیم کا قائد بنایا گیا جس میں کئی تجربہ کار اور میچ جتوانے والے کھلاڑی موجود تھے، لیکن صرف سات میچوں کے بعد حالات ان کی توقعات کے برعکس نکلے۔
بھارت کو شریاس آئیر کی قیادت میں مسلسل سات ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنی ابتدائی سات ٹی20 انٹرنیشنل کپتانی کے میچز میں ایک بھی کامیابی حاصل نہ کرنے والے بھارت کے پہلے کپتان بن گئے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد بھارت کی یہ کارکردگی ٹی20 فارمیٹ میں اس کی بدترین دوطرفہ سیریز بھی قرار دی جا رہی ہے۔
ان سات شکستوں کے بعد شریاس آئیر کا نام شکھر دھون کے ساتھ اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے جس میں بھارتی کپتانوں کی فتوحات سے زیادہ شکستیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔
یہ صورت حال اس بھارتی ٹیم کے لیے غیر معمولی ہے جس نے 2024 اور 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے درمیان کوئی بھی ٹی20 سیریز نہیں ہاری تھی اور دونوں ورلڈ کپ اپنے نام کیے تھے۔
سال 2022 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شکست کے بعد بھارتی ٹیم مسلسل کامیابیاں حاصل کرتی رہی تھی، لیکن اب اس کی کارکردگی میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف شریاس آئیر کی کہانی نہیں بلکہ پوری ٹیم کے نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کپتان پر نتائج کا سب سے زیادہ دباؤ ہوتا ہے، لیکن آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف بھارت کی ناکامی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کے فیصلے بھی زیرِ سوال ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور سلیکشن کمیٹی نے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹی20 ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ صرف سات میچوں کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ تبدیلیاں فائدہ مند ثابت ہوئیں یا انہوں نے مزید مسائل پیدا کر دیے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ گوتم گمبھیر کی وائٹ بال کرکٹ میں حکمت عملی کے تحت بھارت ان کے دور میں آئی سی سی کے دونوں وائٹ بال ٹورنامنٹس جیت چکا ہے۔ اس لیے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف دوطرفہ سیریز میں ناکامی کو حتمی پیمانہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، خاص طور پر اگر بھارت اگلے سال ایک اور آئی سی سی ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شریاس آئیر کو کپتانی سنبھالنے کے بعد ٹیم کی تیاری، حکمت عملی بنانے اور ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔
اگرچہ وہ کپتانی ملنے پر حیران نہیں تھے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھے یا پھر ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کی بدلتی ہوئی نوعیت کا درست اندازہ نہیں لگا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کپتان کی یہی حکمت عملی سے متعلق کمزوری ٹیم کے انتخاب پر بھی اثر انداز ہوئی، جس کے باعث پلیئنگ الیون کے انتخاب میں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور عجیب فیصلے دیکھنے میں آئے، جنہوں نے بھارتی ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔