میسی، ایمباپے یا ہیری کین: فیفا ورلڈ کپ کا گولڈن بوٹ کسے ملے گا؟

فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سیمی فائنل میں فرانس، اسپین، انگلینڈ اور ارجنٹینا اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف عالمی چیمپئن بننے کی جنگ عروج پر ہے، وہیں ٹورنامنٹ کے انفرادی اعزازات، خاص طور پر گولڈن بوٹ اور گولڈن بال، کے لیے بھی سخت مقابلہ جاری ہے۔

گولڈن بوٹ اس کھلاڑی کو دیا جاتا ہے جو ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول اسکور کرے، جبکہ گولڈن بال ٹورنامنٹ کے بہترین مجموعی کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز فیفا کے ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کی تیار کردہ فہرست کی بنیاد پر عالمی میڈیا کے ووٹ سے منتخب کیا جاتا ہے۔

اس ایوارڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے جیتنے کے لیے ٹیم کا چیمپئن بننا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ ماضی میں کئی ایسے کھلاڑی بھی گولڈن بال جیت چکے ہیں جن کی ٹیم فائنل میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

گولڈن بوٹ کی دوڑ اس وقت انتہائی دلچسپ صورت اختیار کر چکی ہے۔ ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی اور فرانس کے کپتان کائلیان ایمباپے 8، 8 گول کے ساتھ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں، جبکہ انگلینڈ کے ہیری کین 6 گول کر کے تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ سیمی فائنل اور ممکنہ طور پر فائنل میں ان کھلاڑیوں کی کارکردگی اس دوڑ کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

رواں ورلڈ کپ میں اب تک 100 میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 292 گول اسکور کیے گئے ہیں، جو ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اسی وجہ سے اس بار گولڈن بوٹ کی دوڑ کو حالیہ ورلڈ کپ کی دلچسپ ترین انفرادی مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب گولڈن بال کے مضبوط امیدواروں میں بھی کئی بڑے نام شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کے مطابق فرانس کے کائلیان ایمباپے اس وقت اس اعزاز کے مضبوط ترین امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف 8 گول کیے ہیں بلکہ 3 گول میں اپنے ساتھیوں کی بھی مدد کی ہے، جس کے باعث وہ مجموعی کارکردگی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

ارجنٹینا کے لیونل میسی بھی اس اعزاز کے بڑے دعوے دار ہیں۔ 39 سالہ میسی نے اس ورلڈ کپ میں 8 گول کرنے کے ساتھ ساتھ 2 گول میں معاونت بھی فراہم کی ہے۔ اس دوران وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اسسٹ کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی مشترکہ طور پر سرفہرست پہنچ گئے ہیں۔

اگر میسی گولڈن بال جیتتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا تیسرا گولڈن بال ہوگا، اس سے قبل وہ 2014 اور 2022 میں بھی یہ اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔

انگلینڈ کے ہیری کین بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے اب تک 6 گول اسکور کیے ہیں اور سیمی فائنل میں اچھی کارکردگی دکھا کر گولڈن بوٹ اور گولڈن بال دونوں کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم بھی مسلسل متاثر کن کھیل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے 6 گول کیے ہیں اور کوارٹر فائنل سمیت اہم مقابلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں بھی گولڈن بال کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

فرانس کے مائیکل اولیسے نے اب تک 5 اسسٹ کر کے اس شعبے میں سبقت حاصل کر رکھی ہے، جبکہ اسپین کے روڈری اپنی ٹیم کے مڈفیلڈ میں مسلسل مؤثر کارکردگی کی وجہ سے ماہرین کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اسپین کے نوجوان کھلاڑی لامین یامال بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق گولڈن بال کی دوڑ میں مضبوط دعوے داری کے لیے انہیں سیمی فائنل میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔

ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے ٹورنامنٹ میں 7 گول کیے، لیکن ان کی ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر ہو گئی، جس کے بعد ان کے گولڈن بوٹ اور گولڈن بال جیتنے کے امکانات بھی تقریباً ختم ہو گئے۔

اب جبکہ ورلڈ کپ اپنے آخری دو مقابلوں کی جانب بڑھ رہا ہے، شائقین کی نظریں نہ صرف نئی عالمی چیمپئن ٹیم پر بلکہ انفرادی اعزازات کے فاتحین پر بھی مرکوز ہیں۔ سیمی فائنل اور فائنل میں ہونے والی کارکردگی ہی فیصلہ کرے گی کہ گولڈن بوٹ اور گولڈن بال کس کھلاڑی کے حصے میں آتے ہیں۔

Related posts