اداروں کے خلاف متنازع بیان؛ عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازع بیان کے خلاف گوجرانوالا کی عدالت میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے، جس پر عدالت نے انہیں اٹھائیس جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک حالیہ خطاب نے ملک کے سیاسی میدان میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

پنجاب کے شہر قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی تھی۔

اس دوران انہوں نے فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے بھی ایک انتہائی متنازع بیان دیا تھا۔

اس بیان کے خلاف گوجرانوالا میں ایک سینئر وکیل کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اٹھائیس جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مذہبی رہنما مولانا حافظ طاہر اشرفی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہداء کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

انہوں نے سیکیورٹی اداروں پر ہونے والی تنقید اور متنازع بیانات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ شہداء کے لواحقین ان بیانات سے شدید غمزدہ ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان پر مجھے فخر ہے اور شہداء ہمارے سر کا تاج ہیں، اس لیے شہداء کے والدین کی دل آزاری کسی بھی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

مولانا طاہر اشرفی نے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گرد اس ملک کے امن کے دشمن ہیں جبکہ ملک کے اندر ہماری فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ فورسز کے جوان محض تنخواہ کے لیے سرحدوں کی حفاظت نہیں کر رہے بلکہ یہ جوان ہمارے اور ہمارے وطن کے پرامن مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس امن کے پیچھے ان جوانوں کا خون شامل ہے۔

انہوں نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سیاستدان ہمارے سیکیورٹی اداروں کو اپنی تنقید کا نشانہ نہ بنائیں بلکہ سیاستدانوں کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں۔

حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست کے میدان میں سیاست کریں، اداروں پر سیاست کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے اور ہم آئندہ فورسز کے جوانوں کی توہین کرنے کی کسی کو بھی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کے مبینہ خطاب پر وفاقی وزراء اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوا اور ملک کی سیاسی قیادت نے اُن سے معافی کا مطالبہ کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاستدان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ اور شہداء کے خاندانوں کی دل آزاری ہے، کوئی بھی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا بلکہ اس کے پیچھے نظریہ، عقیدہ اور وطن سے محبت ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اس خطاب کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقی تقاضوں کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مولانا صاحب، آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے لیکن آپ کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ آپ نے جذبات میں بہہ کر شہداء کی قربانیوں کی قدر کو کم کر کے پیش کیا، جس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم مساجد، مدارس اور جلسوں میں امن سے بیٹھے ہیں تو اس کی وجہ سرحد پر کھڑا سپاہی ہے۔

وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے پوری قوم اور شہداء کے لواحقین سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب نے شہادت جیسے عظیم رتبے کو تنخواہ سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی اور ایمان سے ملتی ہے۔

اسی طرح وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رنج کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کسی شہید کی جان کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سب کو مل کر ایک بیانیہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری طرف، وزیر مملکت برائے ریلوے حنیف عباسی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پوری قوم کا دل دکھایا ہے جبکہ پاک فوج گزشتہ پینتیس سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بھی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے اور اس کا ایک ایک جوان دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان پیش کرتا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی نام لیے بغیر ردعمل دیا اور کہا کہ شہادت مومن کا مقصد ہے اور یہ راز ہم دنیا داروں اور تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے لیے قربانی دیتی ہے، مولانا صاحب کے بیان سے شہداء کے ورثاء کی سخت دل آزاری ہوئی ہے۔

تاہم، سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس معاملے پر ایک مختلف مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سنجیدہ اور زیرک شخصیت ہیں، ان کی طرف سے خیبر پختونخواہ کی صورتحال پر دیے گئے بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سمیت متعدد رہنماؤں نے اس بیان کو شہداء کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔

Related posts