اسرائیلی وزرا کا نیتن یاہو سے امریکی طیارے ہٹانے کا مطالبہ
اسرائیل کی وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے ری فیولنگ طیاروں کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ اگر بین گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے ری فیولنگ طیارے آئندہ دو روز میں منتقل نہ کیے گئے تو بڑی تعداد میں فضائی پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں 20 لاکھ سے زائد مسافروں کے فضائی ٹکٹ منسوخ ہونے کا خدشہ موجود ہے، جن میں آنے والے مہینوں میں سفر کرنے والے ہزاروں مذہبی زائرین بھی شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حریدی مذہبی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر براتسلاو حسیدیم برادری کے افراد اپنے مذہبی تہوار روش ہاشاناہ کے موقع پر یوکرین کے شہر اومان جانے کی تیاری کر رہے ہیں، اور ممکنہ سفری رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی نے گزشتہ ماہ حکومت کو ایک انتباہی رپورٹ بھی ارسال کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی فوجی طیاروں کی موجودگی برقرار رہی تو 24 لاکھ سے زائد فضائی ٹکٹ متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود وزیرِ ٹرانسپورٹ نے اتوار کے روز وزیرِاعظم سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا کہ امریکی طیاروں کو ایئرپورٹ سے منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔
دفاعی اور سیاسی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی حکومت کے لیے انتظامی اور سیاسی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک جانب امریکا کے ساتھ سکیورٹی تعاون برقرار رکھنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک سفری اور مذہبی حلقوں کے تحفظات بھی بڑھ رہے ہیں۔
تاحال اسرائیلی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔