امریکی فوج کی مدد کرنے والا ہر مقام ’جائز ہدف‘ ہوگا: ایران
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تعاون کرنے والے ہر مقام کو اپنی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ وہی ہے جسے ایران نے مقرر کیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور سرزمین کے خلاف کسی بھی کارروائی میں مدد فراہم کرنے والا ہر مقام ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیں گی اور کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت یا اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت کے لیے صرف وہی راستہ محفوظ سمجھا جائے گا جو اسلامی جمہوریہ ایران نے مقرر کیا ہے۔
اس سے قبل اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر، ایران کی نیشنل سکیورٹی، فارن پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میراث ایک بہادر اور ثابت قدم قوم ہے، قوم ٹرمپ سمیت کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ نہیں، ہم کسی بھی شیطان سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتگھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات کا مربان کروڈ آئل 4.26 ڈالر مہنگا ہو کر 73 ڈالر 22 سینٹس فی بیرل پر پہنچ گیا۔
اسی طرح لندن برینٹ کروڈ کی قیمت میں بھی 4 ڈالر 48 سینٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 78 ڈالر 64 سینٹس فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 4 ڈالر 41 سینٹس فی بیرل مہنگا ہونے کے بعد 74 ڈالر 85 سینٹس فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 6 فی صد اضافے کے ساتھ 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ یورپی شیئرز مارکیٹوں میں 1.6 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران امریکی ڈالر اور سرکاری بانڈز کی قدر میں بھی اضافہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جبکہ تیل مہنگا ہونے سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔