جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری
جاپان کے جنوبی علاقے میں 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے بعد حکام نے سونامی کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ جاپانی محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز کیوشو جزیرے کے کماموتو صوبے کے قریب سمندر میں تھا اور یہ سطح سمندر سے تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں آیا۔
زلزلے کے بعد حکام نے خبردار کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں ایک میٹر تک بلند لہریں اٹھ سکتی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اونچی جگہوں پر منتقل ہو جائیں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
جاپانی نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق ایک میٹر تک بلند سونامی لہریں بعض علاقوں میں ریکارڈ بھی کی جا چکی ہیں۔ تاہم فوری طور پر بڑے پیمانے پر نقصانات یا جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔
جاپانی حکومت نے کماموتو کے علاوہ ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوکا، ساگا، اوئیتا اور میازاکی صوبوں کے لیے بھی ہنگامی زلزلہ وارننگ جاری کی ہے۔ یہ تمام علاقے جاپان کے جنوبی کیوشو خطے میں واقع ہیں۔
یہ ایک ہفتے کے دوران جاپان میں آنے والا دوسرا بڑا زلزلہ ہے۔ اس سے قبل 25 جون کو ملک کے شمالی حصے میں 7.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا، تاہم اس واقعے میں کسی ہلاکت یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔ یہ ملک بحرالکاہل کے زلزلہ خیز خطے ”رِنگ آف فائر“ میں واقع ہے اور چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر موجود ہے۔ جاپان میں ہر سال سیکڑوں زلزلے آتے ہیں، تاہم ان میں سے زیادہ تر کی شدت کم ہوتی ہے۔
زلزلوں کے حوالے سے جاپان ماضی کے بڑے سانحات کو بھی یاد رکھتا ہے۔ 2011 میں آنے والے 9.0 شدت کے سمندری زلزلے کے بعد آنے والی تباہ کن سونامی نے تقریباً 18 ہزار 500 افراد کو ہلاک یا لاپتہ کر دیا تھا اور فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔
رواں سال 20 اپریل کو جاپان کے شمالی علاقے میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے تھے اور ٹوکیو سمیت کئی مقامات پر عمارتیں لرز اٹھی تھیں۔ اس زلزلے کے بعد حکام نے بڑے زلزلے کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے خصوصی ہدایت جاری کی تھی، جسے ایک ہفتے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔