ایران اور قطر کے درمیان سمندری راستے سے تجارت بحال

ایران اور قطر کے درمیان گزشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے معطل سمندری تجارت اور بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تعینات ایران کے تجارتی مشیر عباس عبدالخانی نے اتوار کے روز ایران کے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ دوحہ میں ایرانی سفارت خانے اور قطری حکام کے درمیان آپسی بات چیت اور بہترین تال میل کے بعد ایران کی دیر بندرگاہ اور قطر کی الرویس بندرگاہ کے درمیان بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا سلسلہ دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

یہ دونوں بندرگاہیں آمنے سامنے واقع ہیں اور ان کے ذریعے علاقے میں بڑے پیمانے پر روزمرہ کی تجارت کی جاتی ہے۔

تاہم، خلیج کے اندر اور باہر آنے جانے والے راستے اب بھی کچھ حد تک تنازع کا شکار ہیں۔

یہ سمندری راستہ ایک ایسے وقت پر کھولا گیا ہے جب گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں چار ماہ سے جاری لڑائی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت طے کیا گیا تھا کہ خلیج کے علاقے میں سمندری آمد و رفت کو جنگ سے پہلے والی پرانی صورتحال پر واپس لایا جائے گا۔

اس جنگ کے دوران ایران کی دیر بندرگاہ کو بھی کئی بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔

عباس عبدالخانی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سفارتی کوششوں کی وجہ سے اب دونوں ملکوں کے تجارتی جہاز دوبارہ مال لا اور لے جا سکیں گے۔

اس سے پہلے جون کے آخری دنوں میں ایران کی تجارتی ترقی کی تنظیم کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی سرکاری میڈیا کو بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی جبل علی بندرگاہ پر بھی ایرانی سامان کو کلیئرنس ملنا شروع ہو گئی ہے۔

ان تمام تبدیلیوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خلیج کے دونوں کناروں پر آباد ملکوں کے درمیان حالات اب آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں اور کاروباری زندگی دوبارہ پٹڑی پر لوٹ رہی ہے۔

Related posts