ایپل کا بھارت پر حریفوں کے دعوے ‘کاپی پیسٹ’ کرنے کا الزام
بھارت میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اور ملک کے مسابقتی نگران ادارے کے درمیان جاری قانونی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایپل نے بھارتی مسابقتی کمیشن (سی سی آئی) کی تحقیقات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے خود آزادانہ جانچ کرنے کے بجائے کمپنی کے حریف اداروں کے الزامات کو ”جوں کا توں نقل“ کر لیا اور اسی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 25 جون کو جمع کرائی گئی دستاویزات میں ایپل نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات پر مبنی نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ 2024 میں بھارتی مسابقتی کمیشن کے تحقیقاتی حکام نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایپل نے اپنے آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم کے ایپ اسٹور پر اپنی اجارہ داری کا ناجائز استعمال کیا اور ایپ بنانے والوں کو اپنی ہی ادائیگی کا نظام استعمال کرنے پر مجبور کیا، جو بھارتی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
تاہم ایپل نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی اسمارٹ فون مارکیٹ میں اس کا حصہ 6 فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے اسے غالب یا اجارہ دار کمپنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایپل نے اپنے جواب میں کہا کہ تحقیقات کے نتائج آزادانہ تجزیے پر نہیں بلکہ ہمارے حریفوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر اسے اپنے ایپ اسٹور کے طریقہ کار میں زبردستی تبدیلیاں کرنے پر مجبور کیا گیا تو اس سے اس کا مربوط کاروباری ماڈل متاثر ہوگا۔
ایپل نے مزید کہا کہ اگر ہمارے خلاف ایسی پابندیاں یا اصلاحی اقدامات نافذ کیے گئے تو اس سے بھارت کی ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔
دستاویزات کے مطابق ایپل نے الزام لگایا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر کی مالک کمپنی میچ گروپ، والمارٹ کی بھارتی ادائیگی ایپ فون پے اور بھارتی کمپنی پے ٹی ایم سمیت دیگر حریفوں کے دلائل کو تقریباً لفظ بہ لفظ شامل کیا گیا۔
ایپل نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل نے ان بیانات کی آزادانہ تصدیق یا تنقیدی جائزہ لینے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ کئی مقامات پر انہیں جوں کا توں دہرا دیا۔
کمپنی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارتی تحقیقاتی رپورٹ میں 2024 میں یورپی یونین کی جانب سے ایپل کے خلاف دیے گئے فیصلے میں استعمال ہونے والا ایک گراف بھی تقریباً اسی انداز میں شامل کیا گیا، حالانکہ بھارت اور یورپ کی مارکیٹ کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں۔
رائٹرز کی جانب سے دستاویزات کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ یورپی یونین اور بھارتی رپورٹ دونوں میں اعداد و شمار کے لیے تحقیقی ویب سائٹ اسٹیٹسٹا کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اس سے قبل 2023 میں گوگل نے بھی بھارتی مسابقتی کمیشن پر یورپی فیصلے کے کچھ حصے نقل کرنے کا الزام لگایا تھا، تاہم اس وقت کمیشن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے کٹ، کاپی اور پیسٹ نہیں کیا۔
دوسری جانب بھارتی مسابقتی کمیشن اور اس کے تحقیقاتی شعبے نے رائٹرز کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ میچ گروپ، فون پے اور پے ٹی ایم نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں شامل تمام فریقین کے ساتھ 21 جولائی کو بھارتی مسابقتی کمیشن کے اعلیٰ حکام بند کمرہ اجلاس کریں گے، جہاں ایپل کے اعتراضات سمیت تمام معاملات پر غور کیا جائے گا۔