بلوچستان میں ایک ہی دن میں 3 بار زلزلے کے جھٹکے، شدت کتنی تھیں؟

بلوچستان کے ضلع کوہلو اور گرد و نواح میں ایک ہی دن میں تیسری بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم ان زلزلوں کے باعث کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستا کے ضلع کوہلو میں جمعے کو صبح 10 بج کر 25 منٹ پر پہلا زلزلہ آیا اور دوسرا زلزلہ صبح 10 بج کر 58 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا جب کہ شام 4 بج کر 49 منٹ پر تیسری مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق تیسرے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.1 جب کہ اس کی گہرائی 17 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ زلزلے کا مرکز کوہلو سے 60 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔ کوہلو کے علاوہ ژوب، بارکھان اور راکھنی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلہ کیوں اور کیسے آتا ہے؟

ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

زلزلہ قشر الارض سے توانائی کے اچانک اخراج کی وجہ سے رونما ہوتا ہے، يہ توانائی اکثر آتش فشانی لاوے کی شکل ميں سطح زمين پر نمودار ہوتی ہے،زیادہ تر زلزلے فالٹ زون میں آتے ہیں، جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ٹکراتی یا رگڑتی ہیں۔

پلیٹوں کے رگڑنے یا ٹکرانے کے اثرات عام طور پر زمین کی سطح پر محسوس نہیں ہوتے لیکن اس کے نتیجے میں ان پلیٹوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب یہ تناؤ تیزی سے خارج ہوتا ہے تو شدید لرزش پیدا ہوتی ہے جسے سائزمک ویوز یعنی زلزلے کی لہر کہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔

Related posts